انبیا کے وارث علما ہیں ۔۔اور علم کسی ایک فرقے کی میراث نہیں ۔۔ میراث مومن کی ہے پہلے تو مومن بنو ۔۔ کڑا پہن کر نہیں ، ہری پگڑی پہن کر نہیں نام کے ساتھ سید یا شاہ لگا کر نہیں ۔۔ نماز میں ہاتھ اٹھانے گرانے پر نہیں بلکہ علم اور باعمل عالم کی تعریف تو یہ ہے n”اگر کوئی حبشی غلام بھی تمھیں کتاب اور سنت پر چلائے تو اس کو فالو کرو “nایسا ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی ذی شعور، قرآن سے اخلاص کے ساتھ رجوع کرے اور وہ پھر فرقہ واریت یا علم کو اپنی صرف اپنی میراث سمجھ کر یا پھر اپنے کسی حضرت صاحب کی جوتیاں سیدھی کرتے کرتے دوسروں پر فتوے صادر کرنے لگے ۔۔n وجہ ؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ قران سے محبت۔ اللہ سے عشق آپ کو کسی قابل ہی نہیں چھوڑتا کہ آپ دوسروں سے احوال کریں وغیرہ وغیرہ ۔۔ بہت کوئی گھٹیا لیکن متعلق مثال ہے جس کو ظاہر ہے میں قران اور عشق حقیقی پر منطبق نہیں کر رہا لیکن انسانی عقل کا پیمانہ جس قدر چھوٹا ہے اس کو عورت سے منسلک ہر مثال سمجھ آجاتی ہے ۔۔ تصور کیجئے کہ آپ کسی کے عشق میں پاگل ہیں ۔ کسی عورت کے ۔یا کوئی عورت کسی مرد کے عشق میں دیوانی ہے ۔ اس کو وقت ملے گا ؟ اول تو یہ تصور ہی حماقت ہے کہ عشق کسی مخلوق سے کر بیٹھو ۔ اور اس پر ظلم یہ کہ اس کو عشق ہی کہو۔۔ بہر حال ایک لمحے کو کر لو یہ حماقت پھر بتاو کہ عاشق کے پاس اپنے محبوب یا معشوق کے علاوہ کچھ سوچنے کے لیے وقت ہوتا ہے ؟ ۔۔ اور کیا اس محبوب یا معشوق کے عشاق ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتے ؟ یہ تو محبوب کی چوائیس ہے نا ؟ کہ وہ کس پر نظر کرم کرتا ہے کیا عشاق کو رقابت کا جذبہ زیب دیتا ہے ؟ عاشق اگر انتخاب کے مجاز تو وہ عاشق کہاں ہوتے وہ تو معشوق ہوتے اور جس عشق میں رقابت ہو وہ عشق عشق نہیں بلکہ ایک انتہائی خود غرض جذبہ ہوتا ہے جسے محبت کہتے ہیں ۔ اب ہم سوچ لیں کہ ایک دوسرے پر فتوے دیں یا اپنے محبوب پر فوکس کریں ۔۔ علم کسی کی میراث نہیں ۔۔ سب مومنین کی میراث ہے

اترك رد