ننگے پن میں کوئی خوبصورتی نہیں اور سچائی کو اس کی پروا نہیں۔۔ خوبصورتی جب تک ننگی نہ ہو اسے سکون نہیں آتا اور جب سکون آتا ہے تو حسن کو بیاہ لے جاتا ہے ۔ حسن کے جانے سے جو ویرانی چھا جاتی ہے افسوس یہ کہ وہ سچ ہوتی اور سچ آج بھی غار کا باسی ہے ۔۔ سفاک ، بدمعاش ، ننگا اور پاگل ۔۔ پتھر پر پتھر مارتا ہے ، ڈنڈا مار کر شکار کرتا ہے ۔۔ جانور کے لیے وہ آگ ہے وہ رات میں سچ کو بھوت سمجھ کر بھاگتے ہیں حسن اور سچ کا کیا لینا دینا ؟ لین دین تو بیوپار میں ہوتا ہے بیوپار اور حسن کا کاروبار تو خوبصورتی نہیں وہ تو ننگا ہوتا ہے پر سچا ہوتا ہے ۔۔ حسن کے ساتھ چھپا ہونا شرط ، حسن کو سچا نہیں ہونا چاہئے کھلا سچ فحش فلم جیسا ہوتا ہے ننگا لیکن سچا اور خوبصورتی اس وقت تک سکون کے ساتھ بیاہ کر پیا دیس سدھار چکی ہوتی ہے ۔۔ پیچھے رہ جاتا ہے سچ ۔۔ ننگا ، سر پٹکتا ، چیختا ، بدمعاش اور بدصورت سچ۔

اترك رد