بکواس نہیں کام nnکل کھدائی چل رہی تھی – ہاں یہ کھدائی ہی تھی جو روڈ کی ہو رہی تھی nپارکنگ کی جگہ نہیں تھی ۔۔ تو جلدی میں چھوٹے سے مٹی کے ابھار سوری گندا ہوگیا مٹی کے چھوٹے سے ٹیلے پر گاڑی چڑھا دی یعنی دو پہیوں والی گاڑی ۔۔ آدھی چڑھی تھی کہ بند ہوگئی ۔۔ بائیک کی ۔۔ اب زور لگایا کہ دو چار ہاتھ اب تو لب بام ہی رہ گیا ہے ۔۔ نہیں وہ لگانے والی بام نہیں پتہ نہیں کیا تھا وہ جو رہ گیا تھا بہرحال اب آدھے رستے میں پھنسی ہوئی چیز کہاں آسانی سے نکلتی ہے ۔۔ کوشش کر رہا تھا کہ چڑھی ہوئی چیز پر سے اتر جاوں جو بائیک ہی تھی ۔۔ اسی دوران ایک آیا جو ڈسکشن اورمیٹنگ کا شوقین لگتا تھا مطلب میری پھٹ کے ہاتھ میں تھی گلاب جامن منہ میں آگئے تھے اور بندہ مشورے دے رہا ہے ۔۔ ایسے کر لو ویسے کرلو ۔۔ میں نے تمیز سے کہا ۔۔ آپ کے مشورے سے اگر ہو رہا ہے کچھ تو دو چار کو اور بلاو اور سارے یہاں کھڑے ہو کر مجھے چڑھنے اور اترنے کے طریقے سکھاو ۔۔ سمجھا نہیں وہ تھوڑٰی سی جل تو گئی ہوگی اس کی آئ ایم شور ۔۔ لیکن خیر میں نے پھر براہ راست کہا بھائی آپ کی بات کی نہیں ہاتھ کی ضرورت ہے ۔۔ پاکستانی تھا نا وہ تھوڑا ذلیل ہو کر سمجھ آئی بات اسے ۔۔ پیچھے سے آکر اس نے ہاتھ ڈالا ۔ مطلب سٹینڈ پر ۔۔ اور آگے کو دھکا دیا۔۔تو کام آسان ہوا ۔۔ nnنتیجہ : کام مشورے دینے سے نہیں ہاتھ دینے سے ہوتا ہے یہ مجلس شوری والوں کو نہیں سمجھ آنی ۔۔ ذلیل ہوتے پھرتے ہیں معاشرے میں ۔۔ جمہوریت ۔ میرا _

اترك رد