پوسٹ – 2016-10-25

بہت بے ایمان ہو تم – اس نے مجھے کہنی ماری ۔۔ nہم تھر کی ٹھنیڈی ریت اور تاروں کی چھاوں میں تھے nدور روشنیاں تھی اور قریب میرا نور سائرہ میری محبت عمارہ اور میرا سکون ، خالدہ nنہیں یہ تین نہیں ایک ہی تھیں لیکن نک نیم میں نے دئے تھے وہ بیچاری سمجھتی تھی بس میں اسی کو پکارتا ہوں ان ناموں سے nآں ہاں ۔۔ کیا کہا تم نے ۔ میں اس کی زلفیں سونگھتا ہوا چونک گیا
میں نے کہا تم بڑے بے ایمان ہو ۔۔ nہاں تو کیا کروں ۔ محبت کام نہیں ایمانداروں کا ۔ میں پھر سے اس کے بالوں میں گھس گیا
ہٹو نا پیچھے کیا کررہے ہو۔۔ کوئی دیکھ لے گا ۔۔ بے خیالی میں کہنے لگی nکوئی کیوں دیکھے گا ۔۔ میں دیکھ رہا ہوں نا۔۔ اور کوئی دیکھے گا تو میں دیکھ لونگا تم مجھے دیکھنے دو وہ جس ریت پر لیٹی تھی اس کے اطراف میں کچھ دور تک ریت جھوم رہی تھِی میں ریت سے جیلس ہونے لگا ۔۔ nچلو اٹھو واک کرتے ہیں اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھا لیا ۔۔
وہ صحرائی نقوش مجھ پر تانے دیکھ رہی تھی ۔۔ nارے اس وقت واک ۔۔ وہ کسمسائی ۔۔
کیوں ؟ اس وقت کیا ہے ۔۔ nدراصل میں ریت سے جیلس ہو رہتا ۔۔ ریتے کے ذرے اس کے جسم پر پانی کے قطرے بنے ناچ رہے تھے ۔۔ نامحرم اور محرم کا خیال کیے بغیر۔۔
میں نے اسے گود میں لیا اور آگے بڑھنے لگا ۔۔ nچھوڑو کیا کررہے ہو جمال ۔۔ nارے کچھ نہیں ۔۔ دیکھتی جاو
دور کوئی چیز چمکی میرے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی ۔۔ nبس آگئی منزل nجمال مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔ وہ میرے سینے میں گھس رہی تھِ ۔۔
بس میری جان چند قدم اور
ریت میں کھدی تازہ قبر پر لگا کتبہ آج بھی مجھے یاد آتاہے تو میں کہتا ہوں n”ریت بہت جیلس کرتی ہے ۔ ریت بہت چڑاتی ہے ۔۔”nاب تم اندھیرے کی قید میں ریت کے ساتھ رہو ۔اس کی یادیں مجھے آواز دیتی ہیں اور ان میں ایک ہی لفظ ہی جملہ ہوتا ہے nn”اے کی کیتا ہی بغیرتا ۔۔ کڑی دا مکو ٹھپ دیتا۔۔ او وی جیوندی دا در فٹے منہ “

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.