پوسٹ – 2016-10-21

نبی اکرم صلی علی علیہ والہ وسلم (میرے ماں باپ آپ پر قربان) nآپ کی ذات اقد س سے کافروں کو کوئی پرسنل پرابلم نہیں تھا۔۔۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ آپ ہمارے خداوں کی نفی نہ کیجئے ، روٹی کپڑا مکان عورت اقتدار جو چاہئے ہم دیں گے ۔۔
جب سرور کائنات نے “تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند لاکر رکھدو”والی سختی یعنی موقف کی سختی دکھائی تو پھر کفار نے پلٹی ماری ۔۔۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم آپ کی توحید کی نفی نہیں کرتے لیکن آپ ہمارے خداوں کی نفی نہ کریں یعنی ۔۔۔ “وسیع تر قومی مفاد ” میں ہمیں شرک کرنے دیں اور آپ توحید کا علم اٹھائے رکھیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ، بس یہ تھی وہ آفر جس پر کوئی پاکستانی صحافی، سو کالڈ میانہ روی کے نام پر منجن بیچنے والا جماعتی ، ہر حکومت کے ساتھ الحاق کرنے والے مولوی ۔۔ اور اس قبیل کے سارے لوگ سرتسلیم خم کر دیا کرتے ہیں اخلاقیات کے نام پر ، سیاست میں سب چلتا ہے کے نام پر ، اس کی بھی سن ، اس کی بھی سن ، اپنا گیم آن رکھ والی ذہنیت لیکن نہیں ۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا nnوقل جاء الحق وزهق الباطلnnیعنی ایک فارمولا دے دیا ۔۔ یا تم غلط ہو یا میں غلط ہوں بیچ کی بات نہیں ۔۔بزدلی کو میانہ روی کا نام نہیں دیا یا یعنی تین سو ساٹھ کو گراوں گا پھر خدا خانہ دل میں آباد ہوگا۔۔ nاور یہاں باطل کا لفظ ہے ۔۔ کافر کا نہیں ۔۔ تو سبق یہ ملتا ہے کہ یا آپ صحیح ہو یا سامنے والا ۔۔ بیچ کی بات صرف اور صرف فساد، منافقت یبزدلی یا احتیاط پسندی جس کو کچھ بیچارے حکمت سمجھتے ہیں ۔۔ کاش ایسی حکمت ٹیپو کو بھی آتی ، صلاح الدین ایوبی کو بھی آتی ۔۔ nnیہاں اب کوئی صلح حدیبیہ کا حوالہ نہ دے پلیز ۔۔اس پر الگ سے بحث کر لیں گے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.