پوسٹ – 2016-10-13

یار گالی تو غلط بات ہے ، میں دیتا ہوں غلط کرتا ہوں nچھوڑوںگا نہیں دینا۔۔ مدعا کچھ اور ہے ، مدعا یہ ہے ۔۔ کیا ان اعضا کو مخاطب کیا جاسکتا ہے جو پیمرا ٹی وی پر دکھانے میں کسی اخلاقیات کے مارے سے کچھ نہیں پوچھتا سوال مذہبی مداریوں سے نہیں ، اخلاقی چولوں سے ہے اور سوال یہ ہے ، کہ ” تیری بہن کی ران “اب ران تو دکھائی جاتی ہے نا ، ہمارے ہر ہر ایوارڈ میں ، اور ہاں تیری ماں کی چاک ۔۔
یہ گالی ہوگی یا نہیں ؟ ہاں غلط ہے ۔۔ مان لیا ۔۔ سوال غلط صحیح کا نہیں ۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیمرا شمرا اس کو گالی مانے گا ۔۔ ؟ میں بڑا کنفیوز ہوں پیمرا کی بیپ گالی پر کیوں بجتی ہے ؟ رانیں اور بریسٹ لائن اور ساڑھی کے اندر کا حساب کتاب کیوں نہیں دھندلاتے ، یہ لوگ خصوصا ایوارڈ شوز یا بھارتی شوز دکھاتے ہوئے ، یعنی الفاظ میں بولو تو گند اور فحش لیکن تصویر بلکہ چلتی مٹکتی گرماتی تصویر میں ہو جسے بچہ بوڑھا جوان عورت سب دیکھے اور مزے لے یا استغفار پڑھلے ۔۔ اچھی بات ہے اس نے کون سا جان بوجھ کر دیکھا ، تو ٹھیک ہے ، پڑھ لیا استغفارسوال وہی ہے کہ ایسی چلتی پھرتی چیزیں تو ضابطے کے اندر، لیکن کوئی ٹی وی پر گالی دے دے تو بیپ بجتی ہے اور آج کل تو ہونٹوں کی جنبش بھی دھندلا دیتے ہِن کہ کوئی لپ ریڈنگ سے نہ سیکھ لے ۔۔ لول ۔۔ ابے سالو جو تم الفاظ میں چھپا رہے ہو وہ تم ٹی وی میں دکھا رہے ہو کلچر کے نام پر ۔۔ تو گالی بھی بکنے دو ، کم از کم بندہ نام تو جانتا ہوگا نا اس مخصوص عضو کا جس کو تم سی تھرو میں دکھا رہے ہو یار الفاظ کیسے غلط ہو سکتے ہیں اگر جسم دکھانے میں مسئلہ نہیں ۔ بس یہ کنفیوزن ہے ۔۔
اور ونس اگر الفاظ غلط ہیں تو کیا “ماں کی چے والی گالی کی جگہ بہن کی ران والی گالی اگر ٹی وی پر دے دی جائے تو وہ سنسر تو نہِں ہوگی ؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.