پوسٹ – 2016-10-09

فرقے والے پھڈے ایسے ہیں جیسے nچار حلوائی ایک ساتھ ایک ہی جگہ پر دوکان کھول کر بیٹھ گئے ، اور ہر کوئی اپنی مٹھائی کی تعریف کرنے لگا ۔۔ جب کہ دوسرے کی برائی ، اگر تو بات تعریف تک رہتی تو بھی ٹھیک تھا۔۔ لیکن پاکستانی فرقے باز ہیں نا۔۔ دوسرے کو بزنس نہیں کرنے دیتے ۔۔ بلکہ کوئی سستے میں بیچ رہا ہو ۔۔ اس کے بھی چھتر پھیرتے ہیں ۔۔ یہ علمی مسئلے ہوتے تو کب کے سلجھ چکے ہوتے ۔ یہ اناوں کے جھگڑے ہین ۔۔ منطق کے نہیں ۔۔ جب جگہ کا مالک قبضہ لے گا تو دکان دار اور عوام دونوں کی ایسی تیسی ہوجانی ہے ۔۔ پھر میرا حلوہ احھا ہے اس کا برا ہے ۔۔ یہ سب کام نہیں آئے گا۔۔ اس لیے جا کر زمین کے مالک کی دکان ڈھونڈو جو وہ اپنے ایک فرنٹ مین کے ہاتھ میں چودہ سو سال پہلے دے چکا ہے nnدکان کا نام ہے : اللہ کی رسی

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.