اگرابوالاثرحفیظ جالندھری کو پتا ہوتا کہ پاکستان کی یہ حالت ہونی ہے ۔۔ اس کے منافقوں کی وجہ سے ۔۔ تو منٹو یا عصمت چغتائی کو کہتے بلکہ حکم دیتےکہ بیٹا تم لکھ دو ترانہ پاکستان کا۔۔ میں اتنا میٹھا جھوٹ یا یوں کہہ لیں کہ ایسا ننگا سچ نہیں لکھ سکتا ۔ جھںڈا بنایا جاتا چھکے ٹائپ فیشن ڈیزائنرز سے ۔۔ جو لوگوں کپڑے بیچنے کے لیے کپڑے اتروا دیتے ہیں ۔۔ مطلب آپ کو ان کے کپڑے خریدنے ہیں تو اس آپ کو وہ پہن کر ننگا ہونا پڑے گا ۔۔ ابے تو پھر کیا فائدہ ؟ ننگے ہی رہو۔۔ ویسے زیادہ مزا بھی ہلکے ہلکے ننگ پن میں ہے ان کے بقول ایک دم روزہ کھول دیا تو کیا فائدہ ۔۔ پھر ان کے پیچھے عید کون پڑھے گا ۔ خیر

اترك رد