بھائی بات کوسمھو ورنہ چڑھو اس پرnnاگاتھا کرسٹی ، آرتھر کونن ڈوئل ، ابن صفی ، محی الدین نواب ، علیم الحق حقی nیہ لوگ ایک دوسرے کی رائے سنیں تو عمل بھی کریں گے اور فائدہ بھی ہے ۔nnمنٹو، عصمت چغتائی یہ لوگ ایک دوسرے کی ہیلپ اوٹ کریں تو کچھ پروڈکٹ سامنے آنے کی امید ہے nnابن انشا ، پطرس ، شوکت تھانوی ، یوسفی ، یہ سب سر جوڑ کر بیٹھیں تو کچھ ممکن ہے ۔۔nnکسی خالص آئی ٹی کے بندے کو بٹھا کر ذرا رائے لو اس سے ۔۔ مذکورہ بالا افراد کے ساتھ nnپھر اس آئی ٹی کے بندے کو بٹھاو مارک زکر برگ ، یا بل گیٹس یا جابز کے ساتھ بلکہ خیر جابز تو ہر کسی کے ساتھ بلینڈ ہو سکتا تھا۔۔ بہرحال ، کرسٹوفر نولین ، یا زیک سینڈر کی کی مجموعی رائے ، یااس طرح مخلتف شعبے کے ماہرین اٹھا لیں ، اندازہ ہوجائے گا لکھی ہوئی بات اور منہ سے کی گئی بکواس میں فرق کا۔۔

اترك رد