دیکھو نجی محافل یا بند کمروں میں ہوتی کمینگیوں پر پردہ رکھنے کا حکم اللہ دیتا ہے ۔۔ اور معاف بھی کردیتا ہے ۔۔ کہ چلو بندہ کم از کم پبلک میں بغیرتی نہیں کر رہا۔۔ خیر ہوگئی بلکہ وہ تو ٹوٹل اللہ اور بندے کا معاملہ ہے ۔۔۔ لیکن آپ پبلک میں لاو گے ۔۔ سور بنوگے ۔ تو پھر ہم بھیڑئیے بنیں گے ۔۔ بلکہ ہم تو ہیں ۔۔ نوچیں گے ، کھائیں گے ۔۔ کھسوٹیں گے ۔۔ اور ذلیل بھی کریں گے ۔ آپ کو شوق ہے نا “آبجیکٹ” بننے کا تو پھر ہم تو پوری OOPs پڑھائیں گے آپ کو۔ ہم وہ نہیں کہ یہ گناہ ہے یہ نہ کرو ۔۔ ہم کہتے ہیں کرو۔ اور پھر دیکھو تمھارے کپڑے پبلک میں کیسے پھٹتے ہیں ۔۔ ہم تمھیں برقعہ ضرور پہنائیں گے ۔ لیکن پہلے پورا ننگا کرِیں گے ۔۔

اترك رد