ابھی ایک ٹرینڈ چل پڑا ہے ۔۔ پڑھے لکھے ۔۔ نان متعصب مہاجر لڑکے یہ پوسٹس کرتے پھر رہے ہیں ۔۔ زیادہ تر جماتی مہاجر ہیں ۔۔ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم مہاجروں کی نمائندگی نہیں کرتی ان کے اعمال پر پوری مہاجر قوم کو نہ رگڑو ۔۔ ان کی بات تو صحیح ہے ۔۔ لیکن سوال یہی ہے ۔۔ کیا یہ سوچ مڈل کلاس مہاجر علاقے ۔۔ اور الطاف سے حقوق مانگتی بیوہ ٹائپ مہاجر عورتیں (صرف وہ جو ایم کیو ایم کو قبلہ سمجھتی ہیں) کیا یہ سب لوگ اس سوچ کو مان کر چلنے کو تیار ہیں تو ٹھیک ورنہ سروے کرواو اور پتہ کرو کہ کتنے فیصد مہاجر اینٹی ایم کیو ایم ہیں اور دل سے بلکہ کھلے عام بولتے بھی ہیں ۔۔ چپ چاپ منافقت نہیں چللے گی ۔۔ اور جماتی مہاجر کاونٹ نہینں ہونگے ۔۔ اس لیے جب سروے رزلٹ یہ آجائے کہ کراچی کی آبادی میں جتنے مہاجر ہیں وہ آدھے سے زیادہ تعسب کے خلاف ہیں اور اس کا کھل کر اظہار بھی کرتے ہیں ۔ تو ہی بات مانی جائے گی کہ مہاجر قوم بحیثیت قوم ہجوم نہیں بلکہ پڑھا لکھا اور واقعی باشعور طبقہ ہے ۔۔ ورنہ جو ٹھپہ ان پر ایم کیو ایم لگوا چکی ہے اس کو چپ چاپ سہتے رہو۔۔ تمھارے تعصب یا خاموش مخالفت کی یہی سزا ہے ۔۔ اب فیس بک پپر مظلوم نہ بنو nnنوٹ: یہ فارمولا ہر متعصب اور قوم پرست کے لیے ہے

اترك رد