پوسٹ – 2016-04-01

آو بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔nnایک فلم کی کہانی کے مطابق سورج یعنی ہمارا ستارہ مرنے والا ہے ۔۔ مختلف فیلڈ کے ایکسپرٹ سورج کو ری بوٹ کرنے جاتے ہیں ۔۔ قضیہ یہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ ایک ایٹم بم ماراجائے یا دو۔۔ کیوں کہ دوسرا ایٹم بم مارنے سے سورج ری اسٹارٹ ہونے کا چانس زیادہ ہو سکتا ہے لیکن ان ماہرین کی موت کا رسک بھی اتنا ہی زیادہ ہوتاہے ان کے درمیان ایک مجلس شوری کا سا ماحول بن جاتا ہے ۔۔ پھر ایک کہتا ہے کہ کیا ہم اس فیصلے کے لیے ووٹ کرییں ۔۔ تو وہاں ان کے درمیان یہ ڈائلاگ ہوتا ہے ۔۔ nnMace: We’ll have a vote.nnSearle: No. No, we won’t. We are not a democracy. We’re a collection of astronauts and scientists, so we’re gonna make the most informed decision available to us.nnMace: Made by you, by any chance?nnKaneda: Made by the person best qualified to understand the complexities of payload delivery: our physicist.n[Long pause]nnCapa (Physicist) : Shit.nnنتیجہ: رائے عامہ اور مجلس شوری ، آپ کی رائے اس کی رائے ۔۔ مشورے ، بکواس، نیم حکیمی ، نیم ملائیت ، میٹنگ، ڈسکشن ۔۔ برین اسٹارمنگ کا منجن ہر جگہ کام نہیں آتا۔۔ یہ فضول میں دس چمچے ساتھ بٹھا کران سے suggestion کے نام پر ٹائم پاس کروانا خاص طور پر جب آپ کسی نازک اور حساس مسئلے پر کام کر رہے ہیں جس پر مستقبل کا دارومدار ہو۔۔دو باورچی ڈش خراب کردیتے ہیں اور فضول کی جمہوریت مسئلے اور وقت کی ماں بہن کردیتی ہے اور پریکٹکلی بندہ زیروہوجاتا ہے ۔۔ جو جس فیلڈ کا عملی ماہر ہو۔۔ اس کو ڈکٹیٹر ہی ہونا چاہئے ۔یہ چنٹو چمار مشیروں کو رکھ کر نہیں پالنا چاہئے ۔ ہماری سرکاری اور نجی بیوروکریسی میں میں یہ کیڑا بدرجہ اتم پایا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے ہم تو پارلیمنٹ کے خچر ہیں جو وہ ہم پر لاد دے ہم کریں گے ۔ لیکن بات پھر وہی ہے۔ ڈکٹیٹر بھی ڈکٹیٹ نہ کرے ۔۔ کام کرے ۔ اور یہ پوسٹ سیاسی سے زیادہ عملی ہے ۔۔ کافی لوگوں کو جانتا ہوں ۔ جو میٹنگ ڈسکشن کے نام پر ٹائم اور کام کی مدر سسٹر ایک کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں “چل یار نیند آرہی ہے صبح آفس جانا ہے ۔۔” یعنی منتھلی پگار سے آگے کچھ سوچنا نہیں اور مشورے دینے کے معاملے میں سارے ہی نپولین بونا پارٹ دے پتر۔ان سب رائے زنی بلک صرف رائے زنی کی جگالی کر کے کام کے ساتھ زنا بالجبر کرنے والے جو یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ “یہ آپ کی رائے ہے میں اختلاف کا حق رکھتا ہوں وغیرہ جیسی۔۔ “impractical” باتیں ۔۔ ۔۔ اور ہاں اس میں وہ بے عمل بھی شامل ہیں ۔ جو یہ کہتے پائے جاتے ہیں ۔۔ “بیٹھ کر بات کرتےہیں “۔۔ پھر صرف بیٹھے باتیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں یا حد سے حد جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے لگتے ہیں کہ چلو پکنک ہی سہی ۔۔ ۔۔ ان سب پر ۔منیر نیازی کا یہ شعر ۔۔صادق آتا ہے ۔۔
منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.