سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۸nnبالوں کی مہک جو یقیناشیمپو کی تھی ۔۔ اور اس سے ٹپکتے قطرے ارباز پر پڑے ۔۔ وہ سمجھ نہیں پایا ۔۔ پھوار مہک کی ہے یا مہک پھوار میں ہے ۔ یا پھوار پانی کی ہے nnبرص کے داغ اب بڑے ہوگئے تھے ۔۔ جھٹکے سے اٹھنے کی وجہ سے ساڑھی جیسا دوپٹہ اسکرٹ بنتا جا رہا تھا۔۔ “nارباز کو سمجھ نہیں آیا۔ کہ وہ غصے میں ہے یا excitement میں ۔ بھکارن پھنکارتی ہوئی آگے بڑھی اور اس کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی ۔۔ بھکارن کو بھیک دینا خوب آتا تھا۔۔ پر جب بحر کی موجوں کا اضطراب تھما تو وہ سر اوپر اٹھا کر گویا ہوئی ۔۔n” میرا مطلب یہ تھا کہ کہاں سے شروع کروںاپنی کہانی ۔۔ ؟ ۔۔ زندگی نے اس قدر گزارا ہے مجھے کہ اب تو بس گزارے لائق جیسی ہوگئی ہوں میں ۔۔ “n“اوہ اچھا۔۔” ارباز نے پسینے کو آنکھوں میں ٹپکنے سے روکا۔ n“تو یہ مطلب تھا تمھارا” کہاں سے ” شروع کرنے کا ۔ تو تم اپنی کہانی شروع کرنے کی بات کر رہی تھیں ۔۔ “n”ہاں تو ۔ ؟ تو کیا سمجھا ۔۔ ؟ ہیں بول ۔۔” n“نہیں وہ کچھ نہیں ۔۔ “کمرے کی سانسیں جیسے رکنے لگی ۔ ماحو ل میں کوئی تیس سیکنڈ کا سکوت آیا۔ پھر اضطراب کی موجوں میں یکایک جیسے طوفان پھوٹ پڑا ہو۔۔دیواروں سے زنانہ ہنسی ۔۔ کی تیس تیس فٹ سونامی جیسی لہریں بلند ہو رہی تھیں ۔ بھکارن ہذیانی انداز میں ہنسے لگی ۔ بلکہ اگر اس کو صحیح سے کہا جائے تو دھاڑیں مار مار کر ہنسے لگی ۔ ارباز کو لگا کہ ہنسی میں کچھ چیخیں بھی گھلی ہوئی ہیں ۔ دانت پھاڑتے ہوئے کوئی کیسے آنسو بہا سکتا ہے ۔۔ بھکارن ہنس ہنس کر دہری ہوئی جا رہی تی آڑو کا رنگ اب آنکھوں میں گھسنے لگا۔ اس پر برص جیسے داغ ۔۔ اور تو اور برص بھی اب شاید تھری ڈی جیسی لگنے لگی تھی ۔ارباز نے نیلو کو پانی کا گلاس پیش کیا۔۔ اس کی کمر پر ہلکے ہلکے ہاتھ مارا۔۔ تاکہ ہنسی کے دوران لگ جانے والے اچھو سے ارباز کو کوئی ذہنی الرجی نہ ہوجائے ۔۔ اگر وہ چھینکتی توہلتی ۔ اور ہلتی تو۔۔ ارباز یہ سب نہیں سوچ سکتا تھا۔۔ اس پر تجسس کا آسیب تھا۔ nnپانی پی کر وہ پھر سے پوز بنا کر بیٹھ گئی ۔۔ دوبارہ سے بیڈ کی لہریں پر سکون ہوئیں ۔۔ اور وہ کچھ یوں گویا ہوئی nn”میرا نام نیلم ہے ۔۔ میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا ہے ۔ عمر کی اب مجھے پروا نہیں تو اس پر نہیں جاتے ۔ زندگی سے مجھے کوئی خاص کا م نہیں ۔۔ اس لیے سوچا کہ کم از کم اپنا بوجھ کہانی کی صورت ہلکا کر جاوں ۔۔ تیری گاڑی کا نمبر CA-1784 ہے نا ؟ ۔۔ تو یہ سمجھ لے ۔ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے ۔ جو تم مجھے دیکھ رہے ہو۔ نا ۔۔ اس گلی میں nوہ تم نہیں دیکھ رہے وہ میں تمھیں دیکھتی ہوں ۔ انتظار میں تھی کہ کب تیرا تجسس تجھے میرا قیدی کرتا ہے ۔۔ کیوں کہ مجھے ہمدردی نہیں چاہئے ۔ نہ اس کا فائدہ اٹھانے والا۔ مجھے بس کہانی سننے والا چاہئے ۔۔ پھر چاہو تو جو کرنا کہانی کے ساتھ ۔ مجھے پروا نہیں ۔۔ میری کہانی شروع ہوتی ہے ۔۔ میری شادی کے ایک ہفتے بعد 2008 میں ۔ جب پہلی بار میرے بزنس مین شوہر نے غصے میں یہ کہہ دیا کہ ۔ میں کس عورت سے شادی کر بیٹھا ہوں ۔ کیا واقعی تم کوئی عورت ہو ؟ یا گوشت پوست کی بنی ہوئی ۔۔ کھوکھلی گڑیا۔۔پہلے پہل تو کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔ لیکن گزرتے وقت کی استادی نے سمجھا دیا۔۔ کہ میرے ساتھ کچھ غلط ہے ۔۔ میں مکمل نہیں ہوں ۔ یا ہوں تو show off نہیں آتا۔۔ نسوانیت کے سارے ہتھیاروں سے لیس۔ لیکن ۔ گولیاں ربڑ کی ۔۔ بارود گیلا۔۔ جو جل نہ سکے ۔۔ کس کام کی میں ؟ پھر کچھ مزاج کی خاموشی ۔ الگ تھلگ رہنا فاصلوں کا باعث بن رہا تھا۔ nn“ٹھک ٹھک ۔۔ ارباز۔ اندر تو ہے ۔۔ ؟” یہ ارباز کا دوست راشد تھا جو آج شاید جلدی گھر آگیا تھا۔۔nn سبزی منڈی کی جوان بھکارن اور ارباز کی مدبھیڑ ابھی جاری ہے

اترك رد