سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۷nnحسن دھل دھلا کر سامنے آنے کو تھا۔۔ دروازہ کھلا۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔اندازے کے مطابق دوپٹہ جہاں ہونا چاہئے تھا وہاں نہیں تھا۔۔اندازہ ۔۔ ہنہ ابھی تک کون سا یہ میرے اندازوں پر پوری اتری ہے ۔ وہ ہنسا اور بھکارن کی طرف بڑھا۔ جو تولیے سے اپنی جٹائیں نہیں بلکہ اب تو وہ بال تھے ۔۔ انھیں خشک کر رہی تھی ۔۔ nnگزشتہ سے پیوستہ۔۔nnبال خشک کرکے وہ دوبارہ ارباز کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔ وہ دم سادھے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔ کسی بت کی طرح ۔۔ یا شاید پجاری کی طرح ۔۔”ہاں بابو ۔۔ اب بول کہاں سے شروع کروں؟ ۔۔یہ کہتے ہوئے نیلو بھکارن نے پہلو بدلا۔۔اس کے ہلنے سے بستر پر لہریں سی بنیں اور مجبورا ، ارباز نے ہچکچاتے ہوئے اس کے سراپے پر نظریں دوڑائیں نائٹی کے اوپر ساڑھی اسٹائل میں دوپٹہ اوڑھے وہ”صاف چضپتے بھی نہیں ۔۔ سامنے آتے بھی نہیں ” کا شاہکار بنی ہوئی تھی ۔۔ ارباز یہی سوچ رہا تھا ۔ کہ “کہاں سے شروع” کرنے کا کیا مطلب تھا ۔ اس کی نظریں پھر بھٹکنے لگیں ۔۔ گلی کے آوارہ کتے کی طرح ہوگئی تھیں اس کی آنکھیں ۔ جو گوشت ، ہڈی ، چھیچھڑا جو مل جائے ۔ قناعت کر لیتا۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے نا کہ مجبوری اور قناعت ایک ہی کوکھ سے پیدا ہونے والی دو بہنیں ہوں جن کا باپ الگ۔۔ اور حسب نسب فرق۔۔ تو ارباز مجبور تھا نہ قناعت پسند۔ وہ شاید “عام انسان” تھا جس سے بس کچھ چیزیں ہو جاتی ہیں ۔نظروں کی لگام ڈالنا نہیں چاہ رہا تھا یا ڈال نہیں پا رہا تھا۔ یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ لیکن سامنے بیٹھے خاکے میں بسے رنگ جب اس کی آنکھوں میں بھرے ۔ تو ایک دم جیسے سگنل سہی آنے پر۔۔ ویڈیو صاف ہوجاتی ہے ۔ ویسا ہی کچھ ہوا۔۔ آڑو کے کلر کی بے داغ نائٹی پر بنارسی انداز میں لپیٹا گیا دوپٹہ ۔ بیک وقت میم صاحب اور ماسی والا تاثر دے رہا تھا۔ یعنی ٹو ان ون۔۔ جلد پر کہیں کہیں برص کے داغ بھی تھے ۔۔ اوہ نہیں ۔ یہ تو اس کی جلد ہی تھی ۔ جو دوپٹہ چرمرانے کی وجہ سے جھلک رہی تھی۔۔ بھکارن کا دوپٹہ تھا۔ کبھی بھی کہیں سے بھی پھٹ سکتا تھا۔۔ اس کو کون سا نوبل انعام ملنا تھا۔ یا آسکر۔۔ وہ تو بس سبزی منڈی کی بھکارن تھی یا شاید اب تک تو وہی تھی۔۔ آگے کا پتہ نہیں ۔۔ برص کے داغ بتا رہے تھے ۔ بھکارن اگر گوری نہیں ہے تو سانولی بھی نہیں ۔ یا شاید سانولا رنگ جب گورا ہونا شروع ہوتا ہے تو تھوڑا مٹیالا سا ہوجا تا ہے جیسے سوکھے آٹے کی سفیدی تھوڑا پانی ڈالنے سے مٹیالی ہوجاتی ہے ۔ ویسا۔ وہ زیادہ کچھ تو نہیں دیکھ سکتا۔۔ کیوں کہ وہ دکھا نا نہیں چاہ رہی تھی ۔۔ وہ تو نارمل انداز میں بیٹھی تھی ۔ یہ تو ارباز کا دماغ تھا جو سینے میں بیٹھ کر دل کی حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا اور اب قیاس کے گھوڑے ۔ نبض اور دوران خون میں بھاگتے پھر رہے تھے ۔ ہر گھوڑے پر سوار قیاس ایک ہی تلوار اٹھائے ہوئے تھا۔۔ “کہاں سے شروع” کروں ۔ ایک لمحے کے لیے آڑو کلر آاور آٹے کا مٹیالا پن مکس ہوگیا تھا n”بول بابو۔۔۔ اچھا چل میں خود شروع کرتی ہوں۔تجھ سے تو شاید کچھ نہ ہووے ہے ” اسی وجہ سے نائٹی پر دوپٹہ بچھا کر آئی تھی ۔ کہ تجھے کہیں میں invitation card نہ لگنے لگوں۔۔ پچھلے پانچ منٹ سے تو ایسا لگ رہا ہے ۔۔ کہ تو ان لوگوں میں سے ہے جو شادی کارڈ لفافے سے نکالے بغیر ۔ ہال کی طرف بھاگ پڑتے ہیں ۔۔ اور جو ڈش جس کوالٹی کی ڈش ہاتھ لگے ۔۔ تھیلی میں بھر لیتے ہیں ۔ چھی چھی چھی “۔nn“منہ بند کر سالی دو ٹکے کی عورت۔۔ “nnارباز ایک دم ٹرانس سے باہر آیا۔۔ nn” نیلو نیلم یا جو بھی تم ہو۔ اگر میں اپنی مرضی کے خلاف تمھاری بکواس سنے جا رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ۔۔ کہ تم کچھ بھِ بولتی چلی جاو گی ۔ اس کی وجہ صرف میرا تجسس ہے ۔۔ ورنہ تم جانتی نہیں میں کون ہوں ۔۔ اور کس پس منظر سے ہوں ۔۔ تیری جیسی اور تجھ کہیں زیادہ ہائی کلاس کوالٹی چیز خرید سکتا ہوں.”nلفظ چیز پر بھکارن کا مٹیالا رنگ ہلدی جیسا پڑا۔ لیکن ایک لمحے بس ایک لمحے کے لیے یہ اتنی تیزی سے ہوا کہ غصے میں چیختا ارباز بھی نوٹ نہیں کر سکا۔بھکارن افسردہ انداز میں مسکرائی اور کاٹ دار لہجے میں صرف ایک جملہ کہا۔۔ n”میں بھی تو یہی کہہ رہی ہوں “ارباز کو لگا۔۔ کمرے کی ہر دیوار سے نسوانی ہنسی کا طوفان پھوٹ پڑا ہو۔۔ بھکارن ہذیانی انداز میں ہنس رہی تھی ۔۔ بلکہ شاید دھاڑیں مار مار کر قہقہے لگا رہی تھی۔۔ ارباز زمین میں گڑنے لگا ۔۔ n“کیا ہے تو بول ؟ ہاں ۔۔ کیا ہوں میں بول ؟ دو ٹکے کی عورت ؟ چیز ۔۔ کیا مطلب ہے تیرا اس بات سے بول نا۔”۔ بھکارن حقارت سے سر جھٹکتی اس کی طرف بڑھی ۔۔ اس کے بالوں کی مہک جو یقیناشیمپو کی تھی ۔۔ اور اس سے ٹپکتے قطرے ارباز پر پڑے ۔۔ وہ سمجھ نہیں پایا ۔۔ پھوار مہک کی ہے یا مہک پھوار میں ہے ۔۔

اترك رد