باتوں کے پکوڑے ۔۔
ایک نوے سالہ بڈھے پر ریپ کا الزام لگا۔ اس کے وکیل نے دوسری ہی پیشی میں کیس جیت لیا۔۔ جاتے جاتے ۔ اس بڈھے نے ریپ کا اعتراف کمرہ عدالت میں کرلیا۔ عدالت نے سزا دے دی ۔۔ جیل میں وکیل اس سے ملنے آیا۔ اور کہا۔۔“ واٹ دا فک چاچا ۔۔ یہ کیا بغیرتی ہے ۔ جب ریپ کیا ہی نہیں تو الزام کیوں قبول لیا۔۔ “چاچا نے وکیل کی طرف دیکھا۔۔ کمینے پن سے مسکرائے ۔۔ ازاربند تھوڑا مزید ٹائٹ کیا اور کہا۔۔ “بیٹا اس عمر میں ریپ کا الزام۔۔ قسمت والوں پر لگتا ہے “۔nnنتیجہ: باتیں کرنے سے بچے پیدا نہیں ہوتے ۔۔
پوسٹ – 2016-03-24
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد