پوسٹ – 2016-03-21

سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۶nnجیسے جیسے وہ بولتی جارہی تھی ۔۔ارباز ڈھے رہا تھا۔لیاقت آباد قریب آرہا تھا۔۔ اور بھکارن اس سے بھی زیادہ۔۔ اب وہ نیلم تھی ۔۔ اور نیلم سے نیلو اور بھکارن سے پیشہ ور تک کی مجبوری ارباز کو کیا کیا رنگ دکھانے والی تھی ۔ یہ تو شاید بھکارن بھی نہیں جانتی تھی ۔۔ nnگزشتہ سے پیوستہ۔۔nnتو ارباز کیسے جان سکتا تھا۔۔ حیرت کے سکتے سے باہر آتا تو کچھ سوچتا ۔۔n” بس یہ یاد رکھنا آئندہ پیشہ ور نہیں کہنا۔۔ پیشہ ور نہیں مجبور ہوں ۔۔ مجبور بھی کسی جبر نے نہیں ۔۔ بلکہ خود میرے جسم نے کیا ہے ۔۔”اس کے کانوں میں نیلو کی وارنگ گونجی ۔۔ “n”کسی کا جسم اس پر زیادہ سے زیادہ کیا جبر کر سکتا ہے ۔۔” وہ بڑبڑایا فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے ارباز مستقل یہ سوچ رہاتھا، یہ تو غنیمت ہوا کہ کسی نے اس کو نیلو یا نیلم جو بھی تھی وہ اس کے ساتھ فلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے نوٹس نہیں کیا تھا۔۔ ورنہ اس کے دوست بغیر بیک گراونڈ جانے ۔ بھکارن کو بھابھی بنا کر چھوڑتے ۔۔فلیٹ تو کافی سجا سنورا ہے بابو ۔۔ نیلم نامی وہ گندی سی بھکارن استہزائیہ انداز میں کہنے لگی ۔ لگتا ہے ۔۔ کافی کم استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن جب بھی ہوتا ہے ۔۔ پورے ذوق سے ہوتا ہے ۔ وہ کیا ہے نا بابو اپنے کو تو زندگی نے ایک ہی چیز سمجھائی ہے ۔۔ بھکارن نے چنریا سائڈ پر ڈالی اور باتھ روم کے دروازے کی طرف جاتے ہوئے کہنے لگی ۔۔ وہ کیا ؟ اربا ز ہمہ تن گوش ہوگیا “یہی کہ استعمال شدہ لوگوں کے زیر استعمال چیزیں کافی نئی نویلی اور نکھری نکھری ہوتی ہیں ۔۔ جیسے اس فلیٹ کا بستر”۔
بھکارن کی باتوں میں طنز تھا۔۔ باتھ روم کے اندر شاور کی آواز کے ساتھ اب کھلکھلانے کی ہلکی سی آواز شامل ہو گئی تھی ۔۔ارباز ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا۔۔ باتوں باتوں سالی یہ بھول گئی کہ کپڑے کون سے پہنے گی اب ۔۔ ؟ ایک ہی جوڑا تھا جو پہلے گندا تھا اور اب گیلا ہو کر مزید خطرناک ہوگیا ہوگا۔۔ خیر اب بھکارن سے پنگا لے لیا تو زمانے سے کیا ڈرنا۔۔ ارے زمانے کا ڈر تو بعد میں ہے ارباز میاں ۔ پہلے تو تم اپنے آپ سے ڈرو۔۔ فلیٹ صاف ستھرا ماحول ، پیشہ ور بھکارن ، اور اب جو بھیگا سا منظر واش روم کا دروازہ کھول کر باہر آنے لگا تھا۔۔ وہ سوچ سوچ کر ارباز کی شرافت بھکارن کی پانی بھری ہنسی کے ساتھ نالی میں بہنے والی تھِی ۔۔ nوہ آنے والے وقت سے نبردآزما ہونے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے نیلو کی مسرت بھری قلقاری سنائی دی۔n”واہ نائٹی “nارباز کو چکر سا آگیا۔۔ فلیٹ کی صفائی کا راز بھکارن کی ہنسی نے کھول دیا تھا۔۔ اس کا یہ دوست شادی شدہ نہیں تھا۔۔ پھر یہ نائٹی ۔۔اور اس پر مستزاد یہ کہ ۔۔ بھکارن کو نائٹی کا لفظ بھی پتہ ۔۔ ہے او بھائی کس دنیا میں ہے ۔ جب اس کو شیکسپئر پتا ہے ۔۔ تو عورتوں کے ملبوسات تو اس کے لیے پرائمری کی تعلیم ہوئے نا۔۔ اسے خیال آیا۔۔ کہ بھکارن نے تو رستے میں کہا تھا۔۔ کہ برقعہ خرید لینا۔۔ بڑی بے حیاہوگئی ہے دنیا۔۔ ایسا نہ ہو تیری عزت بیوہ ہوجائے ۔۔ ٹھیک ہی کہہ رہ تھی ۔۔ سالی بھکارن۔۔ اب کیا کروں ، اب کیا کروں ۔۔
شاور کی آواز آنا بند ہوگئی تھی ۔۔ کپڑے کے جسم پر مسلے جانے کی آواز آرہی تھِی جیسے کوئی کپڑے میں سمانے کی کوشش کر رہا ہو۔۔ دروازہ کھلا ، ارباز نے آنکھیں پھیر لیں ۔۔ وہ اس منظر کو گھونٹ گھونٹ پینا چاہتا ۔۔ جوس کی۔۔ طرح ۔ تاکہ یہ ام الخبائث ثابت نہ ہو۔۔ nبابو وہ ذرا میرا دوپٹہ دینا ۔۔ شٹ ۔۔ اس کو نائٹی کے اوپر دوپٹہ پہنے کا خیال کہاں سے آگیا۔۔ دوپٹہ دے کر واپس وہ کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔۔ nحسن دھل دھلا کر سامنے آنے کو تھا۔۔ دروازہ کھلا۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔اندازے کے مطابق دوپٹہ جہاں ہونا چاہئے تھا وہاں نہیں تھا۔۔ اندازہ ۔۔ ہنہ ابھی تک کون سا یہ میرے اندازوں پر پوری اتری ہے ۔ وہ ہنسا اور بھکارن کی طرف بڑھا۔ جو تولیے سے اپنی جٹائیں نہیں بلکہ اب تو وہ زلفیں تھے ۔۔اور وہ انھیں خشک کر رہی تھی ۔۔ nn- جاری ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.