سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۳nnاس جوان ستم رسیدہ بھکارن کے آنسووں کا نمک اتنا زہریلا تھا۔۔ کہ ارباز ہاسپٹل سے گھر پہنچ کر کروٹیں بدلتا رہا۔۔ اگلی صبح اس نے تہیہ کیا کہ وہ سبزی منڈی کے اس اسرار سے پردہ اٹھا کر رہے گا۔ بلکہ ضرورت پڑی تو نوچ پھینکے گا۔۔ اس نے کلاس بنک کی ، بلکہ کلاس کیا آج اگر ہڑتال بھی ہوتی تب بھی وہ ۔۔ اس مقصد کو پا کر رہتا۔۔ یہی ہوا۔۔ وہ آج بھی وہیں کھڑی تھی ۔۔ ارباز نے گاڑی پان والے کے پاس روکی ، سیاہ گاگلز ماتھے پر اٹکائے ، اور ایک نظر التفات بھکارن پر ڈالی ، ان نظروں میں التفات سے زیادہ التماس تھی ۔۔ بھکارن عادتا اس کے دروازے سے آٹکی ارباز نے بٹن پش کر کے شیشہ نیچے کیا۔۔ ابھی وہ جیب ہاتھ ڈالنے لگا تھا کہ بھکارن اپنی آنکھیں اس کے دل پر گاڑ کر کہنے لگی ۔۔”ہاں بابو۔۔ کہاں چلنا ہے ؟” یہ دل اس لیے لکھا ہے کہ مردوں کا دل ان کی آنکھوں یا پھر ناف سے نیچے ہوا کرتا ہے اور ایسے موقعوں پر عقل بھی ٹخنوں میں اتر جاتی ہے اسی لیے شاید عقل سے پیدل کا محاورہ وجود میں آیا۔ ارباز کا وجود بھی جھنجھا اٹھا۔۔ کیا “مطلب ہے تمھارا کہاں چلنا ہے ؟ “ارباز نےسخت ہونے کی کوشش کی ۔۔لیکن جب دل آنکھوں میں ہو تو سختی ایک جھونکے کی مار ہوتی ہے ۔۔ وہی ہوا۔۔ بھکارن کھڑکی پر جھکی ۔۔اب اندازہ ہوا کہ بھکارن وہ نہیں ۔ بلکہ وہ تو طلب پوری کرنے والی ہے ۔ یعنی بھکاری وہ سب ہیں جو اس کو گھورتے ہیں ۔۔ یہ الگ بات ہے ۔ کہ اس کا حلیہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں تھا۔۔ کہ کوئی اس پر دوسری نظر بھی ڈالتا۔ شاید اس کے چہرے سے نیچے کوئی جاتا ہی نہیں ۔۔ اور جب ضرورت پڑتی تو وہ کسی کار کے شیشے پر جھک کر کھڑی ہوجاتی ۔۔کیوں کہ جب دل آنکھوں میں اور دماغ ٹخنوں میں اتر جائے ۔۔ تو خوشبو ، بدبو، گھن ، التفات، ان سب کا احساس ختم ہوجاتا ہے ۔۔یہ پھر جانور سے جانور کا ٹاکرا ہوتا ۔۔ جو یا تو چیرتا ہے یا پھاڑتا ہے اور وہ حیوان اگر ناطق بھی ہو تو کھولتا ، چیرتا اور پھاڑتا بھی ہے ۔۔ یہی یہاں بھی ہوا۔۔ ارباز اس جوان بھکارن کو مظلوم سمجھتے ہوئے اس کی کھوج میں آیا۔۔لیکن بھکارن یہ وار اس قدر کاری تھا کہ ظالم وہ ٹہری ۔ اب ارباز کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔ بات کیسے بڑھائے ۔” بول نا بابو کیا گھور رہا ہے ۔۔ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔ “؟بے اختیار ارباز کا سر نفی میں ہل گیا۔۔ وہ ایسا تھا ہی نہیں۔۔ وہ تو ، وہ تو۔۔ اس نے سٹپٹا کر ۔ گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔۔”اتنی تمکنت کہاں سے آگئی اس کی چال میں ۔۔؟” ارباز خلیق نے سوچا۔۔ لوگ باگ معنی خیز انداز میں مسکرا رہے تھے ۔ بھکارن نے بھکاری بھانپ لیا تھا۔۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کا ازلی کھیل شروع ہونے کو تھا۔۔ بھکارن شاید بھول گئی ۔۔کہ اس کی زندگی کے بند باب اس بار کواڑوں کے پیچھے نہیں ۔۔ بلکہ کسی پبلک پلیس پر کھلنے والے ہیں ۔۔ ارباز نے دھیرے سے گاڑی آگے بڑھا دی ، اس کی منزل لیاقت آباد میں موجود ایک دوست کا فلیٹ تھا۔۔ جس کی ایکسٹرا چابیاں ارباز کے پاس رہتی تھیں۔۔ تمھارا نام کیا ہے ۔۔ ارباز نے حسن کی اس غلیظ پوٹلی سے پوچھا۔ جس سے بساند سی اٹھ رہی تھی ۔۔ “بساند تو مچھلی سے بھی اٹھتی ہے” ارباز نے سوچا۔۔بھکارن آنکھیں موندے مسکرائی ۔۔ “بابو ۔۔ شیکسپئر کہتا تھا۔۔ نام میں کیا رکھا ہے ۔”۔ ارباز کے شیلے ، کیٹس، ورڈز ورتھ ، میک بیتھ سب ایک جملے میں فارغ ہوگئے ، اس کا دماغ اچھل کر دوبارہ کھوپڑی میں آگیا۔۔ اور لٹو کی طرح ایک سوال اس کے دماغ میں سائیں سائیں کرنے لگا۔۔ کیا وہ ٹریپ ہو چکا ہے ۔۔ کہ یہ بھکارن ہے پیشہ کرنے والی ہے ۔۔ یا اس کے روپ میں کسی گروہ کی آلہ کار۔۔ شیکسپئیر کا حوالہ سبزی منڈی کے سامنے ایک عرصے سے کھڑی جوان بھکارن کیسے دے سکتی ہے ۔۔۔اس سوال کا جواب اس کو انڈر پاس سے پہلے تلاش کرنا تھا۔۔ ورنہ لیاقت آباد آتے آتے ۔۔ اسکی لیاقت برباد ہوجاتی ۔۔ اور وہ ، اور وہ اور وہ ۔۔ اس سے آگے سوچنا بھی فضول ہے ۔۔ لکھ کیسے سکتا ہوں ۔۔

اترك رد