ری پروڈکشن ۔۔۔ بھائی ری پروڈکشن کا عمل۔۔ nnدیکھو لکھنا بہت آسان ہے ۔۔ بہت ہی آسان۔۔ میں لکھاری نہیں ہوں اس لیے بہت آسان ہے ۔۔ کیوں کہ یہ کام تو ہم بچپن سے کرتے آرہے ہیں ۔۔ بھائی ایک سادہ صفحہ لے کر لکھنا ہی تو ہے ۔۔ پہلے ٹیڑھی میڑھی لائنیں ۔۔ پھر جو انگلش میڈیم میں ہوں وہ ۔ ایلفا بیٹس ۔۔ اور جو پیلے اسکول میں ہوں وہ حروف تہجی لکھا کرتے تھے تو اب کیا مصیبت پڑ گئی ہے ۔۔ جی ہاں پڑھنے کی مصیبت۔۔ ابے کیا ضرورت ہے ؟ چلتی پھرتی کتاب ہے ۔۔ انسان اور جو اس کے ارد گرد روز ہوتا ہے ۔۔ گھر ، دفتر، معاملے ، معاشقے ۔۔ سب فلمیں ہی تو ہیں۔۔ دیکھتے تو ہو نا۔۔ نظر تو آتا ہے ۔۔ اب نظر کو نگاہ ہی تو بنانا ہے ۔۔ صبح سے ہونے والے واقعات کو ایک صفحے پر لکھ لو۔۔ پھر اس کو ٹائپ کر لو یا کروالو۔۔ لیکن سب سے پہلے تو سوچ لو۔۔ کہ لکھنے کے لیے مصنف ، اردو دان ، انشا پرداز، بابائے اردو وغیرہ وغیرہ ۔۔ہونا ضروری نہیں۔۔ بلکہ ۔۔ ایسی سوچیں تو بیڑا غرق کردیں گی ۔ جس دن آپ رائٹر بن گئے ۔۔ رائٹرز بلاک جلاب کی طرح لگیں گے ۔۔ یہ کام چوری ہوتی ہے ۔۔ پرسنل بغیرتی کو رائٹرز بلاک کا نام دے کر سگریٹ پینے کے بہانے ۔۔ وہ بھی دوستوں کی ۔ تو حل یہی ہے نا کہ رائٹر مت بنو۔ انسان کے بچے بنو۔۔ اور جو لکھنا چاہتے ہو لکھو۔ ابے سب بکتا ہے ۔۔ مارکیٹ بہت بڑی ہوگئی ہے ۔ کوئی چھاپے نہ چھاپے ۔۔ فیس بک تو چھاپے گا۔۔ بھوکا مار دو ان موٹے موٹے مغرور ایڈیٹرز کو۔۔ کیا ضرورت ہے ان کے اٹھانے کی ۔ اور بولو ۔۔ پڑھنے کی بھی ضرور ت نہیں ۔۔تم نے کو ن سا پرچہ دینا ہے ۔۔ منٹو بی سی میٹرک میں فیل ہوگیا تھا۔۔ مفتی مر گیا بول بول کر کہ میں لکھاری نہیں ہوں اس کی تو اردو بھی سہی نہیں تھی۔۔انھوں نے ہشیاری یہی کی ۔ اپنے اطراف کے لوگوں کی غیبتوں سے صفحے کالے کردیئے ۔۔اور لکھاری کہلائے ۔ بس دو چیزِیں ہیں ۔۔ تم لکھاری نہیں اور تم پبلک کے لیے نہیں لکھتے ۔۔ بات سمپل ہے ۔۔ جس تم لکھاری بن گئے ۔۔ رائٹرز بلاک تمھاری لے کر مکر جائے گا۔۔ تو دھوکہ مت دو۔۔ تم کوئی لکھاری وکھاری نہیں ہو۔۔ تم بس گھر سے شروع کرو۔۔ آفس تک جاو۔۔ آفس سے واپس آو ۔۔ اور ڈائیری ٹائپ کی چیز لکھ دو۔۔ جب ایک دن کا قصہ مکمل ہوجائے ۔۔تو نام اور مقام بدل دو۔۔ ابے امتیاز علی بھی تو یہی کرتا ہے ۔۔ its all the same story تم کیوں نہیں کر سکتے ۔۔ ؟ کیا کہا ؟ کیسے کریں ۔ یار تمھارا نام عبداللہ ہے ۔ تم نوکر ہو ایک پرائیویٹ فرم میں ۔۔ جس کا نام اے بی سی کمپنی ہے ۔ اردو والا اے نہیں لکھا۔۔ کہیں تم اس او بی سی سمجھ بیٹھو۔۔ خیر تم آفس گئے ۔۔ تم نے ٹیم کی بجائی یا باس نے تمھاری بجائی ۔ تمھاری ترقی ہوئی انعام ملا۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔ اسی طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ۔۔ اور کیا ہے ایک نوکر کی لائف زیادہ سے زیادہ ۔۔ اس سب کو جوں کا توں لکھو۔۔ اور بعد میں عبداللہ کی جگہ قاسم کا نام ڈالو۔۔ اے بی سی کمپنی کی جگہ ڈبلیو ٹی ایف انکارپوریٹ لکھو۔۔ بن گئی کہانی ۔۔ ابے یار کیامصیبت ہے ۔۔ لکھنا کیا تھا لکھنے کیا لگ گیا۔ اب دیکھو۔۔ میں کل سے کوئی فلسفی بننے کے چکر میں ہوں ۔۔ کچھ لکھنے کے موڈ میں ہوں لیکن نہیں کیا ۔۔ کیوں کروں ؟؟ ابے کیا کروں ؟ اپنی زندگی بکواس بن کے رہ گئی ہے ۔۔تو سوچا کچھ پڑھتے ہیں ۔۔ نیت اتنی گندی ہے ۔۔ کہ پہلا نام منٹو آیا۔۔ خیر پڑھا۔۔ گندا تو نہیں تھا۔۔ اب تو دنیا جس جملے میں پارن نہ آئے اس کو گندا ہی نہیں کہتی ۔۔ منٹو تو فرشتہ ہوا ۔۔ خیر سانوں کی ۔۔ پڑھتا گیا۔۔ دماغ زیادہ شارٹ ہوا۔۔ تو وضو کیا۔۔ پھر دوبارہ پڑھنے لگ گیا۔۔ کہ دیکحوں تو اس گٹر کو منٹو اور اور منٹو کو گٹر کیوں کہتے ہیں لوگ۔۔ خیر کچھ سمجھ نہ آیا۔۔ سمجھنے والا کچھ تھا ہی نہیں۔۔ اور سمجھ کا شادی شدہ سے کیا لینا دینا۔۔ خیر۔۔ تو پھر ایک فیس بک پیج کی پوسٹس دیکھنے لگا۔۔ کمپیوٹر پروگرامنگ سے متعلق لطیفے ۔۔ پھر اسٹنگ کے دو چا ر گھونٹ مارے ۔ سگریٹ کا موڈ نہیں تھا۔۔ کیوں کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کون سی والی پیوں۔۔ تھیں تو سب سادہ لیکن ۔۔ لیڈیز جینٹس۔۔ کھسراز ۔ سب کے لیے یکساں مقبول ٹائپ تھین ۔۔اب دیکھو نا۔۔ اصل موضوع کب کا فارغ ہوگیا ہے ۔۔ کمرے میں نظر دوڑا رہا ہوں اور لکھے جا رہاں ہو۔۔ تو رائیٹر نہ بنو۔۔ انسان کے بچے بنو۔۔ کتاب ، کینوس ، یہ اگر سادہ ہو تو الفاظ اور تصویر ابھرتے ہیں ورنہ تو وہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے ۔۔ ابے وہی نا۔۔ جو الطاف بھائی کہتے ہیں ۔۔ ابے یار وہی یار۔۔ جس کو سن کر۔۔ برقعے والیوں کے برقعے اتر گئے ۔۔ اندر ہی اندر۔۔ اور بغیر دوپٹے والی نے منہ اپنے ہی گریبان میں دے کر خود کشی کر لی۔۔ منزل نہیں رہنما چاہئے ۔۔ ہا ہا ہا ۔۔ یہ لے لو میرا چول سالے ۔۔ اسپرم ، ایگ ا اینڈ ری پروڈکشن ، بھائی ری پروڈکشن ۔۔ پروڈکٹیوٹی کے لہسن لگئے ، پروڈکشن رک گئی لیکن ایگ اور اسپرم باز نہیں آرہے ۔۔ اوہ ہاں یاد آیا۔۔ ٹاپک تھا ۔۔ کہ اگر کمپیوٹر پروگرامر حضرات کے فرقے ہوتے تو مکالمات کیسے کیسے ہوتے ۔۔خیر اب تو لسوڑے لگ گئے ۔۔ بعد میں لکھیں گے ۔۔ اب سوچنا اپنے دس منٹ اس لکھی ہوئِ چیز کو پڑھنے کے بعد آپ نے کیا پٹ لیا ؟ اور میں نے کیا حاصل کیا۔۔ لیکن لکھ لیا۔۔ تو مصنف نہ بنو ا۔۔ انسان کے بچے بنو۔۔

اترك رد