پوسٹ – 2016-01-14

جاری ہے ۔۔nnجسم کو تولیے سے رگڑتے ہوئے اس نے اپنا آپ شیشے میں دیکھا ، پانی اس کے جسم پر پسینے کی طرح بہہ رہا تھا۔ جسم پر جیسے نالیاں سی بن رہی تھیں ۔۔ ایک نالی ماتھے سے چلتی توہر عضو پر یوں رکتی جیسے کوئی نازنین کسی کو چھیڑنے کے لیے رکی ہو کسی کو tease کر رہی ہو عضو کراہ کر رہ جاتا۔۔ جسم کے خدوخال کافی سے زیادہ واضح ہوگئے تھے ۔۔ خاص طور پر جب اس نے شیشے پر سے بھاپ ہٹا کر غور سے دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ خوبصورتی تو اس کو دیکھ کر واقعی جیلس ہوتی ہوگی ۔۔ شانوں تک آتے بال ۔۔ ان میں ہلکی ہلکی لہریں ، خصوصا نہاتے وقت ان لہروں سے پانی کے قطرے یوں گرتے جیسے کوئی seas surfing کر رہا ہو۔۔ شیشے کی بھاپ ختم ہوتی جا رہی تھی ، سراپا عریاں ہوتا جا رہا تھا۔ آنکھوں میں شرم کے ڈورے اتر آئے تھے ، نہیں شاید وہ حیا تھی ، جو اسےاپنا آپ برہنہ دیکھ کر اکثر آجایا کرتی تھی ۔۔ الف ننگے جسم پر جب کوئی کپڑا نہ ہو ۔۔ تو حیا ہی ہوتی ہے پھر اس کو محفوظ رکھنے کے لیے ۔۔ اپنے آپ سے ، اپنی بد نیتی سے ، کیوں کہ نہاتے ہوئے جسم کو سب سے زیادہ خطرہ اپنے ہی جسم سے ہوتا ہے ۔۔ اور کیوں نہ ہوتا۔۔ قدرت کی صناعی تو ان کو نشیب و فراز میں رچی ہوئی تھی ۔۔ اوپری ہونٹ میں قدرتی کٹ ، اور دائیں طرف ننھا سا شریر تل۔ جو اکثر اس کی مسکراہٹ میں دفن ہوجاتا تھا۔۔ بیضوی سا چہرہ ، اور اس پر بڑی بڑی سوچتی ہوئی آنکھیں ، شاعروں والی نہیں ۔۔ بلکہ اداس والی ۔۔ گلے سے ذرا نیچے ابھری ہوئی ہنسلی کی ہڈی ، جو کہتے ہیں خوبصورتی کی نشانی ہوتی ہے ۔۔ لیکن ۔۔ یہاں تو خوبصورتی خود بیوہ ہوئی بیٹھی تھی ۔۔ خصوصا جب تن پر کپڑا نہ رہے اور واش روم میں اپنے عکس کے سوا کوئی محبوب نہ ہو تو خوبصورتی کو کون منہ لگائے گا۔۔ لوگ نہاتے ہوئے جسم کو ملا کرتے ہیں کہ میل اترے گی ۔۔ یہاں جسم سے رقص سرزد ہوا کرتا تھا۔۔ جیسے تھیٹر پر کوئی رقاص، آکسٹرا کی انگلیاں پکڑے قدم قدم پیچھے پیچھے ۔۔
ہنسلی کی ہڈی کے نیچے وہ توبہ شکنی کی گہرائی تھی ۔۔ جس نے بڑے بڑے لوگوں کے اعتماد کے ساتھ اٹکھیلیاں کی ہیں ، اور کچھ لوگوں کے ایمان سے بھی ۔۔ ناف سے کچھ اوپر دائیں بائیں کچھ تل ترتیب سے سجے ہوئے تھے ۔۔ جیسے درباری جھکے ہوئے ہوں ، جیسے یہ تخت کو جاتا ہوا راستہ ہو۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.