آپ کی ساری باتیں بالکل صحیح ہیں ۔۔۔ لیکن nn یہاں لیکن = بحث اور جھگڑے کی ابتدا ، انسان سمجھوتوں کے لیے نہیں بنا۔ زندگی سمجھوتے کا نا م ہے ۔
اگر ایساہے تو ہم انسان کیوں ہیں ، اگر سمجھوتا کرنا ہو تو فرشتے سب سے زیادہ کمپرومائزنگ مخلوق ہیں ۔ nاس لیے جہاں آپ کو لگے کہ اور یہ بات ثابت بھی ہو رہی ہو۔۔ کہ آپ درست ہو وہاں “لیکن ” “اگر مگر” چونکہ چناچہ کی نوبت آنی ہی نہیں چاہئے ۔۔
زندگی صحیح اور غلط کا نام ہے ۔۔ یا تو صبح ہوتی ہے یا رات۔۔ بیچ کا وقت زوال کہلاتا ہے ۔۔ جو اس چیز کو مصلحت پر منطبق کرے اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ حکمت ، مصلحت ، بےغیرتی ، بزدلی ۔۔ ان کے بیچ میں بہت ہی باریک لکیر ہوتی ہے ۔۔ اور جو یہ کہا گیا ہے ۔۔ کہ بندہ لوز کرنے سے بہتر ہے کہ دلائل لوز کردو تاکہ پھر باقی ماندہ عمر وہ بندہ آپ کو اور آپ کے نظریے کو سربازار رسوا کرے ۔۔ مصحلت کوشی کی مے نوشی میں غرق ہو کر انسان کہیں کا نہیں رہتا۔۔ یاد رکھئے سب سے مضبوط رشتہ آپ کا نظریہ ہے ۔۔ آپ جنگل میں پتے پہن کر اور گھاس کھا کر جی سکتےہیں ۔۔ آپ لوگوں کے بغیر انسان کہلا سکتے ہیں ۔۔ لیکن نظریے کے بغیر حیوان اور درندے ہی کہلائیں گے ۔ مدلل گفتتگو ہو، دلائل کا مقابلہ ہو ،اصول پر مبنی مباحثے ہوں ، سب ٹھیک ہے ، پھر ظاہر ہے کوئی آپ سے دلائل بازی کرنے بیٹھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے دلائل زیادہ مضبوط ہیں ، وہ جیت جائے تو آپ سرنڈر کرو پھر آپ بھی اگر مگر، لیکن نہ کرو، اور آپ جیت جائیں تو اس کو چاہئے وہ لیکن چونکہ چناچہ وغیرہ نہ کرے کیوں کہ لیکن اگر مگر انا کے نیزے ہیں جو رشتہ چھید کر رکھ دیتے ہیں ، پھر بندہ اور دلیل سب مات کھا جاتے ہیں ، نظریہ ذلیل ہو جاتا ہے اور وہ شخص پھر آپ کے پہلو میں بیٹھا دانت پھاڑ رہا ہوتا ہے ۔۔ آپ کیا کریں ، نظریے سے خالی اشخاص کی پوجا ؟ یہی کرنا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، کو کیا کمی تھی ؟ طرح طرح کی آفر دی گئیں کہ نظریے سے مکر جاو ۔۔ اب یہاں کو تقوے کے ہیضے کا شکار یہ بول سکتا ہے کہ کہاں تم نبی سے ملا رہے ہو۔۔ وغیر ہ وغیرہ ۔۔ تو نبی کیا صرف نماز سکھانے آئے تھے ۔ ؟ یہ نہیں سوچتے کہ وہ جو نازل ہوئی “و قل جا الحق وزہق الباطل” یہ باطل کیوں کہا گیا کافر کیوں نہیں کہا گیا۔ اس لیے کہ بات غلط صحیح کی ہے ۔۔ کفر ایمان کی نہیں ۔۔ کفر ایمان تو غلط صحیح کی ذیلی شاخیں ہیں ،n اورنہ سب کو مصلحتوں کی بارات ہی نصیب ہونی تھی تو پھر ذرا بڑے کینوس پر دیکھیں ، نہ ہمیں کسی بھی سسٹم سے مسئلہ ہونا چاہئے نہ کسی حکمران سے ، میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ سسٹم سسٹم چینچ کرنےکی پکار اٹھانے والے اپنی دکانیں بند کرلیں ۔۔ کیوں کہ ۔۔ یہ سرمئی نظام ہے نہ یہ کالا ہے نہ سفید ۔۔ جہاں شراب بھی آب ززم کے برابر پڑی ملتی ہے ۔۔ آپ یا غلط ہیں یا صحیح ۔۔ رشتے کی بنیاد مخلصی پر ہونی چاہئے نہ کہ مصلحتوں پر۔ جو مصلحتوں کی بات کرے اسے کم ازکم اجتہادی علم رکھنا چاہئے ۔۔ ورنہ دوری کا دروازہ وہ کھلا ہے ۔۔nn-اقتباس
پوسٹ – 2015-07-20
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد