آج پھر بے خوابی کا دورہ پڑا ہے ۔۔ ایک پرانا زخم کھرچ لیا اپنے ہی ناخنوں سے اب رس رہا ہے تو نیند اڑ گئی ہے ۔۔ کرنے کو بہت کچھ ہے کام کابھی لیکن بے کاری جیسے کام کا جو لطف ہے وہ کسی چیز میں نہیں۔ اکثر اس وقت میرے دل کا دماغ خراب ہوجاتا ہے ، میٹر شارٹ ہوجاتا ہے اور کھوپڑی میں موجود بھوسے کا ڈھِر جیسے دماغ کہا جاتا ہے اس کا دل کرتا ہے کہ کوئِ کام کا کام نہیں کرنا۔۔ پتا نہیں دل کا دماغ اور دماغ کا دل اس وقت کیہاں مٹر گشت کرنے نکلےہیں اور میں ایک اچھی فلم پڑِ ہونے کے باوجود کیوں نہیں دیکھ پا رہا ، سحری میں زیادہ وقت نہیں سو بھِ سکتا ہوں ، لیکن نیند تو جیسے خلع لے کے بیٹھ جاتی ہے ، ایسا لگتا ہے پپیر میرج ہے نیند کی آنکھوں سے ، جو ہفتے کے کسی بھی ایک دن ٹوٹ جاتی ہے مطلب تین طلاق ایک ساتھ۔ رجوع کی گنجائش نہیں اوپر سے سگریٹ پی نہیں سکتا کہ پیکٹ پتا نہیں کہاں رکھ دیا۔ آج پھر آگئِ تھی وہ ۔ برا سمجھایا کہ دور رہو ،دور رہو تخیال سے مجسم تک کا سفر راکھ کردے گا ۔۔ نہیں مانی تو بس ہوگیا انسومنیا، پوچھتی رہی تو میں کتراتا رہا۔۔ کچھ کچھ بتایا بھی لیکن لگی مذاق اڑانے ۔۔ خیر اگنور کردیا اور اب بیٹھا اسکرین کو گھورےجارہہا ہوں جیسے اس میں سے کوئی پرانی محبت نکلے گی ۔۔ آج پتہ چلا جیسے یونی کوڈ ٹائپنگ آتی ہے وہ بھِی بلاگر ہے چاہے بے لاگر ہو یا نہیں ۔ خیر سوری ٹائم ویسٹ کیا آپ کا۔ اے لوگو ہمارا کیا ، میں جانوں میرا خدا جانے ، یہیں حرکات رہیں تو رانجھے کی ہیر اسے پاگل خانے میں چوری کھلانے آیا کرے گی اور رانجھا ہر لقمے پر تین لفظ کہے گا۔nnواٹ دا فک۔

اترك رد