جہیز ایک لعنت اور ناشکری ایک ذلت۔nnتحریر: زوہیب اکرمnn یہ ٹھیک ہے کہ بہت سی لڑکیاں جہیز جیسی کم ظرفی کا شکار ہیں ، کچھ بلکہ اکثر ہوس زدہ لڑکے والے لڑکی کی خوبیوں کی جگہ جہیز کے سائز میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، یہ بھی تسلیم کہ لڑکیوں کی سیرت پر زیادہ فوکس ہونا چاہئے نہ کہ ان کی دولت اور صورت پر ، یہ بھی مان لیا کہ آج کل رشتے نہ ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ لڑکے والوں کی فضول اور بے تکی فرمائشیں ہیں اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ آج کل کے لڑکے نکاح نہیں بلکہ بزنس ڈیل کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کے سہاگن بننے کے خواب ان کے بالوں کی چاندی میں الجھ جاتے ہیں صرف اس لیے کہ جہیز کے پیسے پورے نہیں ہو پا رہے وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن اس کا کیا کہ لڑکی کو اس کے گھر سے ہی یہ تعلیم ملتی ہے کہ ابھی کام کرلو پھر شوہر کے گھر جا کر عیش ہی عیش ہیں ، اور پھر اس طرح کی اینٹی جہیز باتیں ، تو لڑکی کا مائنڈ سیٹ یہ بن جاتا ہے کہ وہ ایک اے ٹی ایم کارڈ سے شادی کرنے جار ہی ہے جہاں کھلا کھاتہ ہوگا اور زیادہ تر لڑکیاں وقت سے پہلے اور نصیب سے زیادہ کی دوڑ میں لگ کر شوہر کو کھوتا تصور کر لیتی ہیں ، جو ان کی آئے روز کی بے ہنگم فرمائشوں سے تنگ آ کر یا تو نشہ کرنے لگتا ہے یا پھر حرام رستے رزق ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے ، مثلا اگر شادی کے بعد میا ں بی وی بائک پر سفر کرتے ہیں تو لڑکیاں دوسروں سے موازنہ کر کر کے اپنے شوہر کو کار خریدنے پر مجبور کرنے لگتی ہیں ، کچھ ہوتی ہیں صابر شاکر روحیں ، لیکن بہت کم ، بہت ہی کم ، گاڑی ہوگئی تو پھر گھر بھی اپنا کرنا ہے بھائی نکاح نامے میں ایسی کوئی شرط تھی کیا ؟ یہ ٹھیک ہے اپنا گھر ضرور ہونا چاہئے لیکن صبر بھی تو ہو ، آج کل کے دور میں جلد بنا بنایا گھر خریدنا کون سا آسان کام ہے ،خیر تو جناب ، جہیز ایک لعنت ہے لیکن پھر جو لڑکی اور لڑکی والے جہیز کے خلاف ہیں اور آئے دن لڑکے والوں کو لتاڑتے ہیں [اور کسی حد تک صحیح کرتے ہیں ] انھیں چاہئے کہ اپنی بیٹیوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ وہ اپنے شوہر کی دکھ سکھ کی ساتھی بنیں ، اگر شوہر کوشش کر رہا ہے ، حلال کما کر لا رہا ہے گھر چلا رہا ہے ، تو عورت کو اس کا ہاتھ بٹانا چاہئے پیار سے ، دلار سے اس کی حوصلہ افزائی سے ، نہ کہ اس سے روز روز نت نئی فرمائشیں کہ ، مجھے گھر خریدنا ہے گاڑی خریدنی ہے یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے ، بھائی اگر ایسا ہی تو پھر باپ کے گھر سے جہیز میں سب لے آو اور استعمال کرو۔۔ ورنہ صبر کرو، دیکھا یہ جاتا ہے کہ وہ لڑکی جو شادی سے پہلے اٹھتے بیٹھے جہیز کو لعن طعن کرتی ہے اور صبر و شکر اور قناعت کادرس دیتی ہے ، جب اس کی شادی ہوجاتی ہے تو وہایک دم ملکہ کا روپ دھار کر شوہر کو پیسے کا غلام بنانے کے درپے ہو جاتی ہے اور یہ بھول جاتی ہے کہ وقت سے پہلے اور نصیب سے زیادہ نہیں ، اور اگر اتنا شوق ہے سب کچھ جلدی جلدی کرنے کا ، تو ٹھیک ہے پھر نو مہینے کی جگہ نو دن میں ماں بن کے بچہ پیدا کرنے کے لیے بھی تیار رہو، کیا کہا؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ تو قدرتی عمل ہے ؟ جی ہاں درست یہ سب قدرت کا نظام ہے ، بتدریج اور منظم ، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ جہیز کو تو تھو تھو کرتی پھریں اور پھر شادی کے بعد آپ کی قانع اور صابر روح پرواز کرجائے اور پھر اس کے بعد شوہر آپ پر تھو تھو کرتا پھرے ۔ اینٹی جہیز موومنٹ ٹائپ مائنڈ سیٹ کو چاہئے وہ دونو ں طرف کی صورتحال سامنے رکھے کہ ایسا نہیں کہ عورت تو مظلومیت انجوائے کرتی رہے کہ جہیز نہیں ہے اس لیے شادی نہیں ہو رہی اور شادی کے بعد جب با ت ساتھ نبھانے کی آئے تو اس وفا کی پتلی کی آنکھوں کی پتلیاں صرف ڈالر یا روپے گننے کے لیے ہی حرکت میں آئیں ۔نوٹ: کچھ غیر شادی شادی لوگوں، سب بہنوں کے بھائی نما مردوں اور لڑکیوں کی فری فنڈ کی لیڈرز کو برا تو لگے گا یہ سب ، لیکن کیا کریں ، سچائی یہی ہے ۔ اگر جہیز لعنت ہے تو ناشکری اس سے بڑی ذلالت ہے ۔۔ آپ اپنی اداوں پر ذرا غور کروں ، ہم کچھ عرض کریں گے تو چیخیں نکل جائیں گے ۔

اترك رد