پوسٹ – 2015-06-26

آم کھائے گا آم ؟nn”عجیب جاہل ہے یار یہ نام نہاد ڈاکٹرعامر لیاقت اسلام کے نام پر دکان چلاتا ہے ، ناچتا ہے، نچاتا ہے ۔ لوگوں کو بھکاری بناتا ہے ، آم کھلاتا ہے ۔ دودھ پلاتا ہے بے عزتی کرتا ہے ۔ اسکی شخصیت اتنی متنازعہ ہے کہ نام سے ہی منہ میں بدنامی کا ذائقہ آجائے ، پہلے رمضان پہچان ، پھر رمضان امان ، رمضان پاکستان اور اگلی بار شاید رمضان بدنام ۔”nیہ سب بہت سنا ہوگا آپ نے ، خود بھی کافی کچھ سنایا ہوگا ۔۔ ہے نا ؟ لیکن پروگرام باقاعدگی سے دیکھتے ہوں گے چاہے تنقید کرنے کےلیے دیکھیں یاافطار کے وقت نظروں کی افطاری کے کے ۔۔ بہت سے لوگ عامر بھائی اور ان کے کرتا کاروبارکے مخالف بھی ہوں گی اور حاسد بھی ۔ اور کچھ لوگ ان کے حمایتی بھی ہوں گے کہ عامر بھائی تم کچھ بھی کرو ہمیں تم سے پیار ہے ہے نا ؟ لیکن چونکہ تنقید کی تقلید بہت ہوگئی اور ہماری دکان میں آج کل فتووں کا فقدان ہے اس لیے آج ذرا اس موضوع کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں ۔ nہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کسی مستحق طالب علم کو اسکالر شپ دینا تو درکنار مفت تعلیم دینے کا بھی سوچا ہو۔ مفت ٹیوشن ، مفت کمپیوٹر کورس یا مفت سلائی کڑھائی ۔ کتنے ایسے ہیں جس نے کسی غریب مستحق کو بائیک دلا دی ہو۔اور بھی ایسی کئی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں جو عید کے ساتھ مخصوص ہیں مثلا جنید جمشید کا کرتا یا فردوس کی لان تو پھر اگر کسی نے مختصر سی رقم اور تھوڑی سی بے عزتی سے عامر بھائی کے شو کے پاسز اور انعامات حاصل کرلیے تو کیا غلط کیا۔؟ کم از کم ٹھنڈے ٹھار ماحول میں کچھ دیر تفریح تو کی نا۔ آپ تو کسی کو پٹھان کی چائے مفت میں نہ پلائیں کہاں بڑے ہوٹلز میں افطاری کے ششکے سیدھی سی بات ہے میرے بھائی اگر میرے پیٹ میں روٹی اور جیب میں پیسا نہیں تو پھر خالی خولی عزت ، غیرت سے تو آج کل ایک سگرٹ نہیں آتی ۔
ہم سب نے آج تک ہر کسی کے کسی نا کسی کام پر کوئی نا کوئی تنقید کا پہلو نکال لیا ہے ۔۔ ہم با پ کی ڈانٹ ، اپنی ناکام زندگی کا فسانہ ، اپنے بریک اپ کا غصہ ، جاب نہ ملنے کا حسد ، اپنی نا اہلی کا غصہ دوسروں کو گالیاں دے کر نکالتے ہیں ۔ سوال یہ نہیں کہ یہ پروگرام کتنا قابل مذمت ہے یا اس میں ہونے والی حرکات کس قدر قابل گرفت۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ایسے لوگوں کی عزت نفس بحال کرنے ان میں صحیح غلط ، عزت غیرت کا شعور اجاگر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے سوائے ان کو لعن طعن کرنے اور بے غیرت کہنے کے۔۔ کیا رمضان پاکستان اور جیوپاکستان ٹائپ پروگرامات کی مقبولیت اور ان کی ہر اوٹ پٹانگ ویڈیو کلپس ہم خود دیکھ کر آگ کی طرح نہیں پھیلاتے ؟ یہ بھی تو ایسے پروگرامات کو مقبولیت بخشنے کے زمرے میں آتا ہے اور یہی مقبولیت تو دراصل ان کا مطمح نظر ہے ۔ کیا اس ریٹنگ کی آگ اور اپنے آپ کو بے عزت کرواکر انعام جیتنے کی لگن سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہماری عام عوام ۔۔ کے لیے عزت ،شہرت اور بدنامی یہ سب چیزیں ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں او ر خواہشات کے آگے ہیچ ہیں۔n ایک موٹر سائیکل ، ایک اچھے برانڈ کا کرتا جو عام حالات میں پانچ پانچ ہزار کا بکتا ہے اور ایک خاتون خانہ کےلیے ویکیوم کلینر یا فردوس کی لان اور سب سے بڑھ کر کسی غریب ماں باپ کی اولاد کے لیے سال کے اکیس ہزار روپے یکمشت وہ بھی میٹرک کی اسکالر شپ کی صورت میں تو آپ ہی بتائیں یہ سب جس کو ریاست نے مہیا نہ کیا ہوہ عامر لیاقات کے پروگرام میں آم نہ کھائے تو کیا کرے ؟ nسنجیدہ اور موسمی دونوں قسم کے نقادوں سے ایک چھوٹا سا سوال ہے بھائی آپ نے ایسے تمام لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا کیا۔ ان کچلی ہوئی روحوں پر چار حرف بھیجنے اور قلم کا تیشہ چلانے کے سوا آپ نے کیا عملی قدم اٹھایا۔
کبھی سوچا کہ اگر ہم لوگ محلے کی سطح پر ایسے تمام سنجیدہ افراد کی کمیٹی بنا لیں جو ایسے پروگرامات کو واقعی اپنی اقدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور کسی حد تک ان کا نقطہ نظر درست بھی ہے ۔۔ ایسے تمام لوگ ایک ٹیم کی شکل میں مختلف ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئےکھوج کرے ، تحقیق کرے کہ محلے میں کون کس حد تک اور کتنا ضرورت مند ہے۔ ایسے لوگوں کی ضروریات بغیر ان کی عزت نفس کچلے پوری کرے وہ بھی خفیہ طریقے سے مثلا کسی بے روزگار کو کاروبار ، کسی بچے کی تعلیم یا ٹیوشن کا ذمہ سب سے بڑھ کرگھروں میں ایسی ورکشاپس کا انعقاد جس میں لوگوں خصوصا خواتین کو آگہی اور شعور سے آشنا کیا جائے کہ کیا صحیح کیا غلط کیا ضروری اور کیا غیر ضروری ۔ اور اگر یہ سب کرنا غیر ضروری اور تنقیدضروری لگے تو ایک نظر عامر لیاقت کی محمودہ سلطانہ فاونڈیشن پر بھی ڈال لیجئے گا ۔ ہم لوگ کتنے بھی پارسا ہوجائیں کسی کے دل کا حال نہیں جان سکتے کہ وہ کس نیت سے اپنی ایسی این جی اوز سے لوگوں کو کاروبار کروارہا ہے ، رکشا دلوارہاہے ، تعلیم کا خرچ اٹھا رہا ہے، جہیز کا انتظام تک کر کے دے رہا ہے ۔ ہمیں نظر آتا ہے توصرف اس کا آم ۔۔ نہ مجھےعامر لیاقت سے کچھ لینا دینا ہے نہ ان کو مجھ سے لیکن اتنا جانتا ہوں چاہے دکھاوے کے لیے ہی سہی کسی کے پیٹ میں روٹی تو ڈالی ، کسی کا چولہا تو جلایا۔۔ اور پھر ہم سب کی تنقید بھی برداشت کی ۔۔ کیا سوچتا اور محسوس کرتا ہوگا وہ یہ سب دیکھ کر سن کر۔ بشری کمزوریاں ہیں ، غلط ہو سکتا ہے ۔۔ لیکن مجرم نہیں اور اگر مجرم لگتا ہے تو بھائی پھر آپ اوریجنل ڈگری ہولڈرز ، حلال کاروبار کھڑا کریں ، اور کسیس کی حلال طریقے سے مدد کریں ۔
یقینا ایسے بہت سے لوگ ہونگے جو صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ سب کرتے ہوں تو ان کو توجہ ہم کیوں نہ دے دیں ؟ اور جو ضرورت مند ہو اس کے لیے وہ کمیٹی والا افارمولا یاد رکھیئے تنقید اور باتیں کرنے سے بچے پیدا ہوتے تو ہر کالم نگار بغیر شادی کے صاحب اولاد ہوتا۔۔ لیکن اگر ہم نے کچھ عملی اقدامات نہ اٹھائے تو یہ لوگ آم کھاتے رہیں گے اور ہم لوگ یہ کہتے رہیں گے آم کھائے گا آم ؟ ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.