آئی لو یو پاپا nتحریر: انجینئر زوہیب اکرم nnاتوار کو فادر ڈے تھا , جس میں ہر کوئی اپنے پپا کا اچھا بیٹا/بیٹی بن کر ان کو وش کرتے ، گفٹ دیتےہیں ، کچھ نااہل بھی اس دن اہل بن کر ایک دن کے لیے ہی سہی لیکن اپنے والد کو خوش کرتے ہیں ان کو کارڈز دے کر ، ان کو وقت دے کر ، وغیرہ وغیرہ ۔۔یہ اور بات ہیے کہ ماں باپ کی محبت اور فرماںبرداری ۔۔ کسی ڈے وغیرہ کی محتاج نہیں ہوتی چاہے اختلافات ہوں ناراضگیاں ہوں یا کچھ بھی، ابو ابو ہی ہوتے ہیں ، ہاں تو بات ہو رہی تھی فادر ڈے پر ۔ بس رسما کچھ لکھنے کا سوچا تو سوچتا چلا گیا کہ یار فادر ڈے پر کیا لکھوں اور اگر پاپا کی ہمارے لیے دی گئی قربانی، ان کی محنت ، ہماری ہر خواہش کی تکمیل ، ہر ہر بات کا منہ سے نکلنے سے پہلے پورا ہو جانا [لفاظی نہیں بلکہ حقیقا ] خود ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی پوری جوانی ہمارے لیے لگا دینا بھلے سے ہم لوگ نافرمان ہی ہو جائیں [ خصو صالڑ کے ]لیکن ان کی قربانیوں اور ان قربانیوں اور ان قربانیوں میں گندھی پر خلوص کوششوں جو انہوں نے ہمارے بہتر مستقبل کے لیے کیں ان سب کا اگر ذکر کرنے بیٹھوں تو یہ تو فادر ڈے سے نکل کر فادر لائف کی پوری کتاب بن جائے اور حق پھر بھی ادا نہ ہو۔۔ ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔۔ اخلاقی ، معاشی ، اور معاشرتی جو جو جیسے جیسے فرائض سب انہوں نے پورے کیے اور آج بھی کر رہے ہیں ۔۔اتنا ضرور کہوں گا کا میرے والد محترم ڈاکٹر محمد اکرم اللہ ان کو صحت و تندرستی دے اور چاق و چوبند رکھے ، اپنی مصروف زندگی کے باوجود انہوں نے میری ہر ہر خواہش پوری کی ۔۔ کبھی ضد کے آگے ہار کر کبھی ، اس شفقت پدری کے ہاتھوں مجبور ہو کر جو صرف انہیں کا خاصہ ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سی وجوہات کی بنا پر میں اکثر ان کے آگے بول جاتا ہوں ، بھڑک جاتا ہوں ، چاہے معاملہ کوئی بھی بعد میں اپنے آپ کو پشیمان ٹھیراتا ہوں ، گناہ گار گردانتا ہوں کیوں کہ ہر ہر تلخی کے بعد میرے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ ہی رہا ہے ۔۔ نجانے کیوں وہ مجھ پر غصہ نہیں کرتے حالانکہ حرکتیں میری پہلے سے زیادہ اشتعال انگیز ہوتی ہیں ۔۔خیر تو میں کہہ رہا تھا بچپن میں برک گیم ۔۔ جس کو آج کل بچے شاید “ٹیٹرس” کے نام سے جانتے ہیں ۔ وہی بلاکس والا بلیک ان وائٹ گیم ، سب سے پہلے انہوں نے وہ لا کر دیا وہ بھی بغیر بولے ۔۔ اور جہاں تک یادداشت کام کرتی ہے اس وقت میں خاندان میں جی ہاں پورے خاندان میں واحد لڑکا تھا جس کے پاس وہ اسموک گرے کلر کا برک گیم تھا ۔۔اس کے بعد نوے کی دہائی میں چونکہ اٹاری ، سیگا جیسے گیمز کا زمانہ تھا تو وہ بھی خرید کر دیا اس بار بھی پہلا لڑکا تھا خاندان میں جس کے پاس یہ گیم آیا، پھر کالج میں جو بولا جیسا بولا جیب خرچ دیا ۔۔ صر ف ایک ان کہی خواہش پر کہ بچہ پڑھ لکھ جائے ۔۔ پھر دو ہزار تین میں پینٹیم فور کمپیوٹر ساڑھے چونتیس ہزار کا تھا اس وقت وہ لے کر دیا کہ چلو اسٹڈی میں کام آئے یہ اور بات ہے کہ وہ بہت سے دوسرے کام بھی آیا ۔۔ یہ سب باتیں آج کے بچوں کے لیے شاید بہت زیادہ معمولی ہیں کیوں کہ آج تو پی ایس پی اور آئی پیڈ کا زمانہ ہے ۔۔ میرے لیے تو وہ سب بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھیں کیوں کہ شاید آگے جا کر مجھے یہی فیلڈ سیلیکٹ کرنی تھی لیکن اب تک میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے پپا کی محبت جو ان کو مجھ سے تھی ہے اور رہے گی ۔۔ ان کو میں الفاظ میں بیان کروں گا تو شاید یہ ان کی فیلنگز کی توہین ہوگی کیوں کہ شاید ایسا کوئ قلم کوئ فونٹ کوئِ بلاگ نہیں بنا جو میرے ابو کی ہمارے لیے محبت کا احاطہ کر سکے اس لیے اس کو یہیں روکتا ہوں آپ سب سےاس درخواست کے ساتھ کہ اپنے ابو کی محبت کو فادر ڈے کی قید سے آزاد کریں ۔۔ اورہر ہر دن کو فادر ڈے کے طور پر منائیں کیوں کہ وہ ہیں تو آپ ہیں ورنہ زمانے کی تیز دھوپ اور تلخیاں جوباپ نے برگد جیسی ٹھنڈی چھاوں کی طرح روک کر رکھی ہوئی ہیں ہماری ہر ہر تلخی اور نافرمانی کے باوجود وہ چھاوں اگر ہم سے روٹھ گئِ تو ۔۔ بس پھر آگے تو سوچنے کی ہمت نہیں لکھنا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔اللہ ہمارے والدین پر کڑوڑوں رحمتیں اور صحت و تندرستی عطا فرمائے ۔ آمین

اترك رد