پوسٹ – 2015-06-08

“بھائی تو جا کر اس سے بات کریا پھر اپنی ٹیم کی کسی لڑکی سے بول اس سے بات کرے تیرے لیے کہ تو اسے پسند کرتا ہے شادی کرنا چاہتا ہے دو چار جذباتی ڈائیلاگ بھی بول دینا ، اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کی کسی دوست کو بہن بنا لے [مجھے بھی نمبر دے دینا “فیوچر باجی ” کا ] اور اس کے ذریعے اس کو اپروچ کر ۔ ورنہ بیٹا ایک بات یاد رکھنا جتنی تیزی سے ہمارے ہاں کی لڑکیاں ایڈوانس ہو رہی ہیں ہم لڑکوں کی طرح ایسا نہ ہو کل کو کوئی اس کو پک ڈراپ کرنا شروع کردے گھر سے آفس آور آفس سے گھر اور تیرا اس کا “آفیشیل ڈرائیور ” بننے کا پلان ڈراپ ہوجائے شاباش میرا بھائی ہمت ہے تو بات کر ورنہ پوری عمر دوسروں کے نکاح کے چھوارے ہی نصیب ہوں گے اور آخر میں دوسروں کو تری کنواری موت کے کالے چنے “۔ میں نے حنان کو “بھائی بندی “میں مشورہ دیتے ہوئے کہا۔ وہ اپنی کولیگ روشان کو پسند کرنے لگا تھا اور قد کاٹھ ، اس کی آنکھیں اس کی ہنسی ، اس کا شرارتی پن یہ ساری تفصیل اتنی بار دہراچکا تھا کہ اگر میں آرٹسٹ ہوتا تو اس کا سکیچ بنا لیتا۔ خیر تو میں نےاپنی سولہ سالہ کو ایجوکیشن لائف میں کامیابی سے آزمائے ہوئے طریقے اور کارآمد تھے اسے بتا دیے ۔یہ سب سن کر حنان نے جو جواب دیا میں تو وہ سن کر ہی سن ہوگیا اتنا سادہ سا حل جو آج تک ذہن میں نہیں آیا تھا وہ حنان جس کو یونی ویرسٹی میں کلاس کی لڑکیوں سے بات چیت نہ کرنے کی وجہ سے یار لوگ”میٹھا” کہتے تھے [پوگو لگا لو اگر نہیں سمجھے ]۔ اس نے آسان سے الفاظ میں پورا مسئلہ خود ہی حل کردیا کہنے لگا “یار اماں کی اس سے فون پر بات کروادیتا ہوں ، ہاں یا ناں دونوں صورتوں میں میرا ہی فائدہ ہے ، ہاں ہو گی تو فائدہ ہی فائدہ نہ ہوئی تو اس میں بھی فائدہ کیوں کہ اگر میں اس سےبراہ راست بات کروں یا لڑکوں والی بولی میں ” گھیروں ” تو ظاہر ہے قربتیں بڑھیں گی ، میل ملاپ اور اٹیچمنٹ یہ سب ہوگا، کیوں کہ شریف میں بھی نہیں ہوں اور اس کو رہنے نہیں دوں گا ، سمجھ رہا ہے نا۔ اور اس سب کے نتیجے میں اس کی جذباتی انوالمنٹ بھی ہو جائے گی پھر اگر کسی وجہ سے بریک اپ ہوا تو دونوں گلٹی ہوں گے ، دونوں ہی ماضی کو یاد کریں گے بیتا ہوا وقت سوچ سوچ کر آہیں بھریں گے `، اور اگر کسی اور سے شادی ہو گئی تو ۔۔۔۔ ابھی تو شاید میری انوالمنٹ بھی اس حد تک نہیں کہ اگر وہ منع کردے تو اپنی نسیں کاٹ لوں ، یا نشہ کرنا شروع کردوں یا پھر اپنے خون سے اس کا نام لکھنا شروع کردوں اور پھر ساری عمر کنوارا رہ کر اپنی پہلی محبت کو خراج تحسین پیش کروں اور پھر وہ تو بالکل بھی انوالو نہیں ہے ۔ اس لیے کہتا ہوں کہ اس بیچاری کو پریشان کرنے کی کیا ضرورت ہے ابھی تو یہ بھی نہیں کنفرم کہ اس کی کہیں بات چیت تو نہیں طے کیوں کہ ایسی لڑکیاں بہت جلدی”نو ویکینسی ” کا چلتا پھرتا اشتہار بن جاتی ہیں ۔ہاںاگر رشتہ ڈالا اور ناں ہوگئی تو نہ اسے کسی چیز کا گلٹ ہوگا نہ مجھے ۔ رہی ا
وہ اٹریکشن جو مجھے اس میں ہے تو ایک بار نکاح ہوجائے اس اٹریکشن کو پسند اور محبت بننے میں وقت ہی کتنا لگے گا؟ تجھے تو پتا ہے تیرے بھائی کی سپیڈ nہاہا” حنان پورا پری میرج اور پوسٹ میرج ہر طرح کا پلان سوچے بیٹھا تھا ۔ اور میں منہ کھولے اپنے سارے افئیرز اور بریک اپ کو یاد کرتے ہوئے سوچ nرہا تھا کہ کتنا آسان ہے یار نکاح ، شادی ، ولیمہ رخصتی ۔ اور ہم لوگوں نے گرل فرینڈ ، بوائے فرینڈ کلچر، ڈیٹنگ، ویلنٹائین ڈے ، اور زیادہ سے nزیادہ منگنی ۔۔ اس کو ہی اپنی منزل سمجھ لیا ہے ۔ حنان کی اس سوچ نے تو مجھے بھی قائل کر لیا کہ اگر واقعی زندگی کے یہ اہم معاملات اور رشتے اتنی آسانی سے”مینیج ” ہونے لگیں ہماری لوئر سے لے کر اپر کلاس سوسائٹی کے نوجوان کتنے شانت ہوجائیں پھر نہ گینگ ریپ ہوں، نہ خودکشی اور نہ ہی گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کی پخ کیوں کہ اگر ایسا ہوگیا تو آپ کی بیوی ہی آپ کی گرل فرینڈ ہوگی اور آپ کا بوائے فرینڈ آُپ کا شوہر کیا آپ اتفاق کرتے ہیں اس سادہ سے حل پر۔ آزمالیں ، فیس بک ، سفاری پارک ، قائد اعظم کا مزار، کے ایف سی ، میکڈونلڈز ، ان بیچاروں کے بزنس ٹھپ نہ ہوگئے تو کہئے گا۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.