کچھ پڑھے لکھے جاہل خواتین و افراد اپنے دوستوں کی تعداد بڑھانے آتے ہیں صرف فیس بک پر۔ ا ن کے نزدیک سوشل میڈیا پر راہ نجات بس ایک پیج بنا کر لائکس پڑھانا ہے اس لیے وہ عام افراد سے بات کرنا توہین کا باعث سمجھتے ہیں ، اس ظاہر ہوتا ہے پاکستان کے زیادہ تر entrepreneurs کی ذہنی اوقات carpenters سے بھی کم ہے۔

اترك رد