مال و دولت کو اپنی اولاد سے بڑھ کر پوجتی اس امت کے لیے ، کسی ضرورت مند اور مستحق فرد کی مدد کرنا گویا اس قدر آزمائیش اور مشقت کا کام ہے ، جتنا حضرت ابراہیم کے لیے اپنےفرزند اسماعیل کیn گرد ن پر چھری پھیرنا تھا، ہمیں آخر تک یہ لگ رہا ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی ضروریات اورکسمپرسی کو nمد نظر رکھتے ہوئے ہی کسی کی مدد کرنی چائیے ، یعنی اختیاری سخاوت،تبھی ہم یہ سوچتے رہتے ہیں اس کی مدد کردی تو میں کہاں سے کھاوں گا، فلاں نوکر ی کے لیے اگر کسی اور کو بھیج دیا تو میرا چولہا ٹھنڈا نہ ہوجائے ،یاد رکھئے قدرت نے یہ دنیا امکانات سے بھر رکھی ہے اور ہم چن چن کر صرف خدشات ہی کاشت کرتے ہیں ، ہم اس اختیاری سخاوت اور خدشات کے گھن چکر میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ ہماری نگاہوں سے وہ الوہی حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے جو یہ کہتی ہے کہ اللہ عز و جل اوپر بیٹھا صرف ایک کام کر رہا ہوتا ہے ، ہمارے اپنی پسندیدہ چیز کی گردن پر چھری پھیرنے جانے کا انتظار ۔ محض اک بار ابراہیم کا سا توکل اختیار کریں ، اپنے ایثار کو سخاو ت کی دھار لگائیں اوراپنے پسندیدہ مال و متاع کی گردن پر پھیریں تو آپ دیکھیں گے کہ پلک جھپتے ہی آپ کی خدشات کی جگہ کشادگی اور فراوانی سے پر کردی جائے گی خوشحالی کا مینڈھا آپ تک پہنچ جائے گا۔کوشش تو کریں اور ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ یہ بیڑا اٹھائیں اور سال کے 365 دن تک لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور مسئلے حل کرنے کے لیے کمر بستہ ہوجائیں تو ہو سکتا ہے قدرت آپ کو صبر کی آزمائش میں ڈال دے پھر سال کے 364 دنوں اور23 گھنٹوں تک آ پ کے گھر میں ایمان توکل اور یقین کے علاوہ کچھ کھانے کو نہ ہو ، نہ ہی کسی امکان کا امکان ہو پھر بھی اگر آپ یقین محکم سے کام لے کر اپنے قریب بھنبھناتے خدشات پر ایمانی اسپرے کردیں گے تو دیکھیں گے کہ 365 واں دن کاسورج روشنی کی جگہ کشادگی ،امکانات اور رزق کی فراوانی بکھیر دے گا۔nn-زوہیب اکرم

اترك رد