سنا ہے ۔ کہ اگر پیسا کمانا ہے تو پیسا خرچ کرنے کا ڈھنگ آنا چاہئے ۔ اور کبھی کبھی تو اللہ آپ کو دوسروں کو پیسا دینے کے لیے دولنت سے نوازتا ہے ۔ کوشش کریں دوسروں کی مدد کریں ۔ چاہے ایک روپیہ ہو یا ایک لاکھ ۔ یا ایک کروڑ مدد سے مطلب صدقہ زکواتہ نہیں ۔۔ بلکہ یہاں مدد سے مطلب اللہ سے مال مانگ کر ۔ اللہ کے بندوں کو دے دینا ہے ۔۔ اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کے آپ کسی کو مکان ، کاروبار ، یا جائیداد دلوانے کے لیے اللہ سے کچھ مانگیں اور اللہ آپ کو نہ دے ۔ بس آزمائیش اسی بات کی ہے ۔۔ کہ پیسا اور مال آنے کے بعد بھی آپ کی سوچ یہی رہے کے پیسہ جتنا بھی آئیے یہ آپ کو دوسروں تک پہنچانا ہے ۔ کسی بھی صورت میں ، کاروبار ہو، کیش ہو، نوکری کی صورت میں ہو یا مکان کی ، وغیرہ وغیرہ ۔ پھر جب یہ سلسلہ چل نکلے تو اللہ میاں کے دیئے ہوئے پیسے سے اپنا کمیشن بھِی رکھنا شروع کردیں بس خیال رہیے کہ آپ کی نیت کمیشن کی نہیں ہونی چاہئے ۔ اور ویسے بھِی اللہ جتنا بے نیا ز اور ان داتا ہے اس کو اس سے کیا فرق پڑنا ہے کہ آپ کمیشن رکھ رہے ہیں ۔۔ اس کو تو اس سے بھی غرض نہیں کہ آپ کسی کو دے رہے ہیں یا نہیں ۔۔ بس یہ ہے کہ آپ کو دل کا اطمینان اور چین کی نیند نصیب ہوگی ۔۔ اور برکت تو بارش بن کر اترے گی ۔۔ بس حوصلہ کریں ۔

اترك رد