کبھی سوچا ہے کہ ؟ ہوا اتنی زیادہ اور مفت کیوں ہے ؟ nکیوں کہ ہم اس کو بینک میں جمع نہیں کرواتے ۔ nدولت کا بھی سین یہ ہے جس طرح سانس لیتے ہی ہیں سانس نکالنے کی فکر لگ جاتی ہے یہیی معاملہ اگر ہم دولت کے ساتھ کریں ۔ تو دولت بھی ہمیں سانس کی طرح ملے گی اور جس طرح ہمیں سانس کی فراوانی کی قدر نہیں اسی طرح ہمیں دولت کی کمی اور زیادتی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ اصل چیز اس راز کو پانے کی سعی کرنا ہے ۔۔ کہ دولت آنے سے پہلے ہی اس کو دوسروں پر خرچ کرنے کا پلان آخر بنتا کیسے ہے اور جب بن گیا تو ٹرائی کر کے دیکھلیں ۔۔ آپ مہینے دو مہینے میں دس مرتبہ اپنے پیسے کسی اچھے کام میں لگائیں تو آپ خود دیکھیں گے کہ پیسے آپ کے پاس ایسے ائیں گے جیسے کچرا چننے والے پٹھان کے مقنا طیس پر لوہا خود چپکتا ہے ۔۔ بس جگر چاہئے پیسے کو اس قدر حقیر سمجھنے کا ۔

اترك رد