کالج کے زمانے کا کیوٹیاپا nnظاہر ہے جب کالج لڑکوں کا ہو ، اور اس میں جماعتی بات بات پر درس پر اتر آئیں nاور بی ایس سی کی لڑکیوں کو دیکھنا تو در کنار واش روم میں بھی سوچنے پر پابندی ہو اس لیے نہیں کہ جماعتی کچھ کہیں گے ۔۔ اس لیے کہ اپنی ہی پھٹتی ہو بات کرتے ہوئے ، کیوں کہ آپ گیارہویں میں ہو اور وہ بچی تھڑڈ ائیر میں ۔۔ اوپر سے اس کی سرخی ۔۔ اس کی ماں کی آنکھ ، بلکہ اسی کی آنکھ ۔۔ چلو کالج میں تو جمیعت کے لونڈے ہیں ۔۔ باہر بھی کیا اکھاڑ سکتا ہے بندہ ۔۔ معاشرہ روشن خیال ہی نہیں۔۔ بیچارہ ۔۔ اور اپنے اندر اتنی ہمت نہیں پھر ظاہر ہے بندہ کالج کے کاریڈورز میں ایسے ہی گانے سنتا ہے ۔۔nnغم دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے nیہ الگ بات ہے ۔۔ چھلکنا آنکھ سے نہیں ہوتا اس عمر میں ، اور غم دل کو نہیں ہوتا

اترك رد