پوسٹ – 2016-12-18

ابال – قسط نمبر ایک nnبیگ صاحب نے آج بھی شریفاں کی طرف سے نظریں چرانے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔لیکن مرد کی فطرت ۔
غص بصر حکم ہے آپشن نہیں ۔لیکن ہم حکم کو آپشن سمجھتے ہیں اور آپشنز کو حکم ۔ویسے بھی جب عورت ،عورت نہ رہے تو مرد کاہے کو مرد رہے ؟
جواد احمد بھی خود کو کافی دیر سے تسلیاں دے رہے تھے ۔
نفس کو تھپک رہے تھے ۔لیکن نفس تھا کے کسی خالی پیٹ ،بھوکے بچے کی طرح بلک رہا تھا ۔
چیخیں مار رہا تھا ۔
اپنی بھوک کا اعلان کر رہا تھا ۔
لیکن جواد احمد نے نفس کے روتے بلکتے بچے کی طرف سے کسی غریب باپ کی طرح آنکھیں چرا لی تھیں ۔لیکن یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ خالی پیٹ اور بھرا ہو نفس ،آنکھیں چرانے سے مطمئین نہیں ہوتے ۔
بہلانے پھسلانے کے مرحلوں کے سامنے وہ پہلے ہی ہتھیار ڈال چکے تھے ۔جواد صاحب نے اخبار پے نظریں گاڑدیں ۔
اس وقت اخبار انہیں اندھے کی سفید لاٹھی کی طرح لگ رہا تھا ۔جس کے سہارے وہ پی پاں کرتی ٹریفک کے اس پار اترنا چاہتے تھے ۔
گھریلو ملازمہ پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی ۔ایک خبر پے انکی نظریں جم کر رہ گئیں ۔
پولیس نے قتل کے شبہ میں مالک سیٹھ عبدالرزاق کو گرفتار کرلیا ۔
جواد احمد کا حلق ناجانے کیوں اچانک ہی خشک ہوگیا ۔انہوں نے پنکھے کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا ۔
وہاں شریفاں کی لاش پنکھے سے جھول رہی تھی ۔وہ مر کر بھی کسی ہوئی ہی لگ رہی تھی ، لیکن یہ کسوٹی شریفاں کے جسم کا استعارہ نہیں تھی بلکہ بیگ صاحب کی آنکھوں میں کافی عرصے سے روزے روزہ خور مرد کا بال اترا ہوا تھا جس کو وہ جھپک جھپک کر جھٹلاتے پر شریفاں افطاری کروانے پر مصر رہتی ۔۔ ایسا انہیں لگتا تھا۔۔ کیوں کہ شریفاں تو انتہائی شریف تھی اور وہ ٹہرے مرد۔۔ جو مجبور حسن کو قصور وار سمجھتا ہے اور خود کو حقدار nnانہوں نے گھبرا کے شریفاں کی طرف دیکھا.nوہ انکی طرف منہ کئے پیروں کے پاس ٹاکی مار رہی تھی.nاس کا توانا اور مضبوط جسم ہچکولے لے رہا تھا.شاہراہ قراقرم پر جیسے ریشم کی ٹرالی الٹ گئی ہو
کام کرنے کی وجہ سے جسم ایسا تنا ہواتھا جیسے ایروبکس کرنے والی لڑکیاں.nجواد احمد کو اپنی بیوی کا تھل تھل کرتا جسم نظروں میں گھوم گیا.nکمر اور پیٹ کے اوپر چربی کی موٹی موٹی تہیں سینہ اور تھوڑی میں فاصلہ بس اتنا ہی کہ گردن موڑی جاسکے پھر بلڈ پرشراور کچھ خود ساختہ بیماریاں جن میں کمزوری سب سے نمایاں تھی جس کی وجہ بچے پالنے سے لے کر کپڑے استری کرنے تک سارے کام شریفاں کی زمہ داری تھے.nجواد احمد کی بیوی عائشہ تو چاہتی تھی کہ کھانا بنانے پہ بھی شریفاں راضی ہوجائے اور چوبیس گھنٹے وہ ان کے گھر میں ہی رہے تاکہ عائشہ کو کسی بھی قسم کی زحمت نا ہو.لیکن برا ہو شریفاں کے میاں کا وہ شریفاں کو رات میں کسی بھی طرح چھوڑنے پے تیار نا تھا.nاسکی وجہ یہ بھی تھی کہ شریفاں گھر مین ایک دودھ پیتے بچے کو چھوڑ کرآتی تھی جس کی دیکھ بھال اس کی ساس کرتی تھی. عائشہ کو بھی اتنے چھوٹے بچے کی چیں چاں پسند نہین تھی اس لیے وہ اس کو جتلاتی رہتی تھی کہ جیسے ہی اس کا بچہ کچھ کھانے کے قابل ہوجائے وہ اس گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لے.nشریفاں ہاں ہوں کر کے عائشہ کو ٹالتی رہتی.nجواد احمد کو سخت کوفت ہوتی جب شریفاں اس کے کپڑے استری کر کے لاتی یا پھر اس کے چھوٹےبچے کو کمر پے ٹانگ کر بہلانے کی کوشش کرتی. ایسے مین اس کی کمر کا خم اور نمایان ہوجاتا.nبھائ جی ..پیر ہٹائین ..nشریفاں کی اواز نے ان کو چونکا دیا انہوں نے جلدی سے نظرین اور پیر دونوں سمیٹ لئے.nشریفاں شریفاں.nعائشہ کی اواز نے جواد احمد کو بوکھلا سا دیا جیسے وہ چوری کرتے پکڑے گئے ہوں.nجی باجی جی.nشریفاں نے ٹاکی چھوڑ کر پلٹ کر دیکھا.nاسکی پشت جواد کے سامنے تھی. بھرے بھرے جسم کے نشیب وفراز نے جواد احمد کو عجیب ہیجان میں مبتلاء کردیا.nشریفاں ان کے بہت قریب تھی. اتنے قریب کہ اس کے کپڑوں سے آنے والی ملی جلی بووں نے عجیب بے ہودہ سا غبار بنالیا تھا.ریشم بھری سڑک پر اب پانی سرسرا رہا تھا
جواد احمد کا ہاتھ اخبار سے خبر کی طرف بڑھ رہا تھا. nn- جاری ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.