جیتنے کا شوق رکھنے والے ریس ٹریک پر نہیں دوڑا کرتے ۔۔ بلکہ ریس ٹریک بنایا کرتے ہیں ۔۔ شطرنج میں سارے ہی پیادے ہوتے ہیں۔۔ کھلاڑی ہمیشہ باہر ہوتا ہے ۔۔ اسی طرح پروفیشنل لائف میں کارپوریٹ منجن بیچنے والے حضرات کے لیے عرض ہے ۔ ایمپلائیز کوn”صحت مند مقابلہ بہتری کا ضامن ہے” کا منجن بیچنا چھوڑ دیں یہی حال اور بیماری سیاسی مذہبی تنظیموں میں بھی ماشاللہ بدرجہ اتم موجود ہے ۔۔ انہیں ریس ٹریک بنانے والا بنائیں نہ کہ کسی کا گھوڑا ، یا جوکی ۔۔ کیوں کہ آخر میں میں سب مہرے ایک ہی ڈبے میں چلے جاتے ہیں اور کھلاڑی دوسری بساط بچھا لیتا ہے nn- یہ بات گدھوں گھوڑوں کو سمجھ نہیں آئے گی ۔۔ ریس کورس میں بیٹھے افرا د سمجھ سکیں گے ۔ ریس ٹریک میں بھاگتے جانور نہیں ۔۔nnنوٹ : مجھے بدرجہ اتم کا مطلب بتا دے کوئی ۔۔

اترك رد