ایک قلم کا مکالمہ nnمیں خود اس کے رحم و کرم کا محتاج ہوں جس کا نام ہی “المصور” ہے ۔۔ تخلیق کار۔ بہنے دے پھر اس کے رنگوں میں ۔۔ اس کے جلووں میں ۔ جس کا نام ہی تخلیق کار ہوگا۔۔ وہ کیسے موضوعات کی کمی ہونے دے گا۔ شرط بس یہی ہے ۔۔ سوچنا بھی مت کہ تم لکھاری ہو ۔۔ ابے تم بھکاری ہو ۔۔ الفاظ کے اور میں تمھارا کشکول ۔ وہ دے گا تو کشکول بھرے گا لفظ سکوں کی مانند چھلکیں گے ۔۔ اس سے ناتا ٹوٹا تو بس بھائی ۔۔ پھر میں آزار بند ڈالنے کے کام آوں گا اور تو کھولنے کے ۔۔ جانور اور انسان میں کیا فرق ہے ؟ قلم ، لفظ ، شعور اور جبلت کا۔۔ یہی تو آدمی اور انسان میں فرق دلاتا ہے ۔۔ خیر لکھنا میرا کام ہے ۔

اترك رد