سیاسی و مذہبی کارکن خصوصا جماعتی اچھے پروفیشنلز کیوں نہیں ہوتے ؟nn1) تنظیمی تربیت کی بنا پر ہر کمپنی میں “صرف میں ٹھیک باقی سب چو_یا” کا ٹھپہ لگانے کے جراثیم nn2) شوری کے نام پر دقیانوسی اور فرسودہ پارلیمنٹ کا اجلاس جس میں گدھے ، خچر ، گھوڑے ،ہر قسم کی مخلوق اپنی زبان ہلانے کو “مشورہ سنت ہے ” کا نام دے کر منجن بیچتے ہیں ۔۔ عمل ہوتا ہے ایک فیصد ڈسکشن ہوتی ہے نناوے فیصد ، یہ حال تو خیر غیر سیاسی والوں کا بھی ہے ۔ لیکن سیاسی بندے میں یہ جرثومے زیادہ خالص ہوتے ہیں ۔nn3) باس اپنے آپ کو ناظم ، ساتھی بھائی ، کپتان ، اس سے ہلکا سوچتا ہی نہیں ۔۔ پتہ _ن کا نہ ہو ۔ لیکن پتے ضرور کھیلوں گا۔۔ چال ضرور چلوں گا۔۔ یہ رویہ گندی جمہوری سوچ کی وجہ سے آتا ہے ۔۔ جہاں پندرہ گھوڑے ایک خچر کے یپچھے چلنے پر راضی ہوں تو جی بسم اللہ ۔۔nn4) کمیونی کیشن کا اتنا بڑا گیپ ہوتا ہے کہ پوری کمپنی غرق ہوجاتی ہے اور آواز تک نہیں آتی ۔۔ کہی گھوڑے کی جارہی ہوتی ہے اور سنی مکوڑے کی ۔۔ یہ مکوڑا صرف اخلاقیات سو کالڈ کی وجہ سےلکھا ہے ۔ ۔ ورنہ لفظ وہی ہے ۔۔ جو آپ کے دماغ میں آیا ہے ۔۔ کمیونی کیشن گیپ کی وجہ وہی ہوتی ہے ۔۔ ایک بندہ جس کو خود کچھ نہ پتہ ہو ۔۔ کام کے بارے میں ۔۔ وہ اپنے جیسے بیس کی سن رہا ہوتا ہے ۔۔ اور سن ہو ریا ہوتا ہے ۔۔۔nn5) سیاسی لٹریچر سے دوری ، پڑھائی سے دوری ۔۔ یعنی پڑھنے کی عادت ختم ۔۔ پڑھو گے نہیں تو سنو گے نہیں ۔۔ سنو گے نہیں تو سنو گے نہیں ۔ سنو گے نہیں تو سمجھو گے نہین سمجھو گے نہیں تو ۔۔۔۔۔ جی وہی ۔۔ جو چوتھا نمبر ہے nn6) ضیاالحق نے سیاسی جماعتوں کو ایل پی سی کروایا ۔۔ یعنی یونین الیکشن، نیت تو اس کی کچھ اور تھی ۔۔ اگر یہ ہوتی ہے کہ یہ چو_یے جو اپنی لیڈری جھاڑ رہے ہیں آگے چل کر اچھے پروفیشنل نیں بنیں گے ۔۔ تو اس کا فیصلہ صحیح تھا۔ لیکن ظاہر ہے وہ خود فوجی ۔ اسکو کیا پتہ قوت فیصلہ کا ہوتی ہے ۔۔ سوائے دو رکعت کی امامت کے ۔۔ nn- جاری ہے

اترك رد