ناسمجھ ہی رہتے nبڑے ہوئے تو لگ گئی nnابے ایسا اگر ہم سے پچھلی نسلوں نے سوچا ہوتا ۔ تو ہم ناسمجھ نہین ناپید ہوتے nعجیب ۔۔ نو سے پانچ کر کے ایسی باتیں لول ۔۔ یہ قید دماغ کی سازشیں ہیں بس۔۔ جو شاعری کی صورت میں وہ کرتا ہے ۔۔ بجائے بڑے ہو کر نسلوں تک شعور پھیلانے کے ۔۔ خود سے ماں کی گود میں گھس جاو بس۔۔ ہنہ سستے احسان دانش

اترك رد