شوگر فری اسلام کی تعریف یہ ہے کہ ، مولانا طارق جمیل کی تعریف کیئے جانا ، اندھا دھند (گو کہ وہ نیک اور اچھے آدمی یہں لیکن بات وہی ہے ۔۔ میٹھا میٹھا کھیلتے ہیں ۔۔ اور خواص میں کھیلتے ہیں ۔۔ )اور دوسرا یہ کہ مولانا فضل رحمن پر تنقید کی جائے کیوں کہ وہ پی ٹی آئی والوں کے مجروں کی ایسی تیسی کرتے ہیں ۔۔ فیس بک پر کچھ دوست یہ منجن بیچتے پائے گئے کہ سراپا دعوت ہوجانا ہی اصل مثال ہے برائی کو برا ٹارگٹ کر کہ کہنا سیاسی ہوجاتا ہے لوگوں کے بقول ، یہ دونوں قسم کا رویہ میں اصل میں ایکسپائر ہوچکا ہے ، سرجیکل اسلام ہو تو ٹھیک ہے ، یعنی کینسر سیل کی سرکوبی ، اور اس دوران باقی جسم کو ہومیوپتھ ایک وقت میں ایک چیز یعنی ایک رویے کا وقت نہیں اب۔۔۔

اترك رد