یہ بات یاد رکھیں ، آپ جب ایک کھونٹا پکڑیں گے نا چاہئے وہ صحیح ہو یا غلط اس سے قطع نظر ۔۔۔ یاد رکھیں دنیا آپ کی بہت بینڈ بجائے گی ۔۔ nnوجہ: دنیا ، رشتے ، حالات ، کیرئیر اور جتنی بھی ساری میٹھی باتیں ہیں یہ ایک چلتا پانی ہے ۔۔ آپ وزن ہلکا رکھو اپنا یہ آپ کی خواہش کے برخلاف آپ کو بہا لے جائے گا ۔۔ اپنا وزن تھوڑا بڑھاو لہریں بہت بری طرح تھپڑ ماریں گی ۔۔ اور جو سب سے قریب کی لہر ہوگی وہ اتنے ہی زور سے ٹکرائے گی ۔۔ وجہ ؟ کسی بھی حرکت کرنے والے چیز کی اسپیڈ اور قوت اس پوائنٹ سے کچھ پہلے شدید ترین ہوتی ہے ۔۔ جہاں وہ ہٹ مارتی ہے ۔۔ آپ نے اگر وہ سہہ لی تو پھر آپ پتھر بنے اپنے اطراف کے لوگوں یعنی چلتے پانی سے کہہ رہے ہوں گے nn”عادت ہی بنالی ہے تم نے تو اپنی”nnایک وقت آئے گا آپ کے قدموں تلے ریت جمنا شروع ہوگی ، یعنی پتھر اب زمین میں پاوں جما رہا ہے ۔۔ یہ اسٹیج بھی اگر آپ نے نمٹا لیا تو پھر آپ دریا کا رخ موڑنے والے پتھر بننے کے مرحلے میں داخل ہوجائیں گے ۔۔ یعنی پانی کاٹ کر ۔۔ اور یقین کریں اس اسٹیج پر بڑے بڑے ہار جاتے ہیں ۔۔ لیکن یاد رکھیں قدرت آپ کی طرف لہریں ہی نہیں بھجیتی بلکہ آپ کے پاوں میں مٹی بھیج کر اپ کو مضبوط بھی بناتی ہے ۔۔ آب یہ آپ نے سوچنا ہے کہ آپ نے nnپانی روکنے والا بند بننا ہے یا دریا کی لہروں کے تھپڑ کھا کر سمندر میں غرق ہوجانا ہےnnآخری بات وقت کا تعین کہ کب تک اور کہاں تک سہنا ہوگا:nnجی یہ کافی کنفیوزنگ ہے لیکن ایک نشانی ہے ۔۔ جب حالات سخت ہوجائیں یعنی رب کے سوا کوئی امید نہی ۔۔ تو یاد رکھیں کہ اگر نیت صحیح ہے تو جتنا زیادہ قدرت آپ کو پارس بنائے گی وقت اتنا ہی لگے گا۔ بلکہ یہ دو طرح سے ہوتا ہے ۔۔ یا تو وقت زیادہ لگے اور مسائل کم یا کم وقت میں زیادہ مسائل اور اتنے شدید کہ آپ کی سوچ ہے ۔۔ لیکن یاد رکھیں ۔۔ یہ سب امتحان ہوتا ہے ۔۔ اوپر والا آپ کو مرنے نہیں دیتا جب تک آپ خود خودکشی نہیں کرلیں یعنی disqualify نہ کر بیٹھیں اپنے آپ کو۔۔ بولے تو پیپر کینسل ۔۔ یعنی ہوسکتا ہے آپ نے نناونے فیصد سختیاں برداشت کیں اور ایک فیصد سختی اتنی تھی کہ وہ نناوے پر بھاری ہوگئی اور پھر آپ نے سوچا یار کیا فائدہ اس سب کا تھا۔۔ بس یہی وہ لمحہ ہوتا ہے آپ مایوس ہوتے ہیں اور پھر کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔۔nnاس کونسیپٹ کو سمجھنے کے لیے بڑے صبر سے ایک فلم دیکھیں nnTHE EXAM

اترك رد