سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس عورت پر ترس ہی آتا ہے جو تھپڑ کھا کے سمجھتی ہے ۔۔ چاہے وہ میڈیا کی سر چڑھی ہو یا پھر فیمینسٹ کی ۔۔ عورت بنیادی طور پر بے وقوفانہ حد تک معصوم ٘مخلوق ہے ۔۔ یہ بات کنفرم ہے کہ اکثر یہ بے چاریاں دوسروں کی شہہ پر اور دوسرے کی بارڈر پر جا کر شہید ہوتی ہیں جب کہ ان کا اپنا ذاتی فالٹ کچھ نہیں ہوتا یا کم از کم ایسا نہیں ہوتا کہ پبلک میں رگڑ دیا جائے ۔۔ لیکن کیا کریں ؟ کچھ مریض گولی سے سہی ہوتے ہیں ، کچھ انجکشن سے ، کچھ ڈرپ اور کچھ آپریشن سے ۔۔ یا پھر آپریشن کے بعد بھی “ہلکی پھلکی” کیمیوتھراپی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن شرط ایک ہے ۔۔ مرد کو صرف مرد ہونے کا زعم نہیں ہونا چاہئے ۔۔ مردانگی عورت کومارنے میں نہیں ۔۔۔۔ ایک حد تک برداشت کر کےپھر مارنے میں ہیں ۔۔ وہ بھِی ایسے جیسے بیان کیا گیا ہے ۔۔ہلکی پھلکی ۔ بھئی سیدھی بات ہے ۔ نہیں مانے گی تو چمبے کھائے گی ۔۔اس عورت کو تھپڑ میڈیا نے پڑوایا ہے ۔۔ اس کا اپنا فالٹ صرف ایک تھا ۔۔۔۔ “اس کی آواز” ۔۔ جس کو یہ چیخ کر مزید ناقابل برداشت بنا رہی تھی ۔۔ شور کہ انسانی ذہن پر کیا اثرات ہوتے ہیں اس پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے ۔۔اور پھر آگے سے بندہ فورسز کا ہو ۔۔ لول۔۔ میڈیا اب ٹھیک ہے ؟ اس عورت کو چاہئے اب میڈیا کے خلاف مہم چلائے ۔۔ عورت اس کام کے لیے نہیں بنی جو میڈیا ان سے لے رہا ہے۔۔ یہ جس کام کے لیے بنی ہے وہ کم از کم یہ لبرل آنٹیاں یہ فیمینسٹ زنخے ، یہ روشن خیال چو_یے ہمیں نہیں بتائیں گے ۔۔ میری ہمدردیاں اس عورت کے ساتھ ہیں ۔۔ اگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے ۔۔ لیکن مجھے پتا ہے وہ عورت ہی کیا جو غلطی مان جائے ۔۔ غلطی ماننے کے لیے بندے کا دماغ لاجکل ہونا چاہئے ۔۔ صحیح غلط ایک فیصلہ ہوتا ہے ۔۔ اور فیصلہ کرنے قوت اس کو دی ہی نہیں گئی ۔۔ ورنہ بے نظیر دیکھ لو غریبنی کس بے بسی میں ماری گئی ۔۔ اور آج کل کی حسینہ واجد دیکھ لو ۔۔ ایسے ہی تو ذلتیں نہیں اٹھا رہیں یہ خواتین یہ ان کا فالٹ نہِں ۔۔ ان کو غلط سسٹم میں ڈالا گیا ہے ۔۔ سسٹم پرابلم ہے عورتیں نہیں ،

اترك رد