#20 nnپیغام رسانی/کمیونی کیشن سے متعلق، ڈیفالٹ رویے/ خودکار فیصلےnnنوکری/ آفس وغیرہ کے براہ راست آپ سے منسلک معاملات کی حد تک، ٹھیک ہے، لیکن، عمومی طور ہر، خود کو ناگزیر سمجھنا چھوڑ دیں، کہ آپ رابطے میں نہیں ہونگے تو، کاروبار زندگی رک جائے گا۔
اپنے کمییونی کیشن یا ذرائع ابلاغ /پیغام رسانی کے ذرائع، زیادہ سے زیادہ ای میل پر شفٹ کر لیں، چیٹ، واٹس ایپ، آئن لائن موجودگی کو ، اپنی اخلاقی ذمے داری یا مروت مت سمجھیے، جسے واقعتا ، ایمرجنسی اور جلدی، یا کوئی، واقعتا اہم نوعیت کی ضرورت درپیش ہوگی، وہ، آپ کو براہ راست کال کرلے گا، ورنہ ای میل یا محض پیغام چھوڑ دینا کافی ہے۔ nآفس میں ، خصوصا اگر کوئی کولیگ، سیٹ پر آکر مداخلت کرتا ہے، تو اسے نرمی سے یہ کہہ دیں کہ ،آپ، کسی کام میں مصروف ہیں
، اور وہ چاہے تو، آپ کو اپنا ،مدعا ای میل کر کے، اپنے کام کا ریمائنڈر دے سکتے ہیں۔nnاسی طرح، اگر کوئی شخص ،آپ سے واقعتا، ضروری ملاقات کرنا چاہتا ہے ، تو یہ ضرور طے کر لیجئے کہ، اس کا ایجنڈا کیا ہے
وہ آپ سے کیوں ملنا چاہتا ہے ،بجائے فون کال دوبدو ملاقات پر اصرار کرنے کے، اس ایجنڈے کا اظہار وہ ای میل پہ کردے، ۔
پوسٹ – 2020-01-24
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد