پوسٹ – 2020-01-24

#21nnڈیفالٹ رویے/ خودکار فیصلوں کے ذریعے، زندگی میں آسانی کیسے لائیںnnلوگوں کے لئے غیر ضروری طورپر،بار بار دستیاب ہو جانا ،
آپ کی اپنی زندگی اور افادیت یعنی پیداواری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ہے،n ایک آدھ بار کی حد تک ٹھیک ہے، پر کمیونی کیشن اور رسائی کے معاملے میں خود کو ارزاں کردینا، یہ کسی طور، اخلاقیات کا باب نہیں۔
اس میں غرور نہیںn اس میں کوئی انا نہیںn اس میں خود کو ، کوئی ،توپ چیز سمجھنا نہیں۔n اس رویے اور مزاج کو بائی ڈیفالٹ فیصلوں، اور خود کار رویوں میں شامل کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ nn آپ اپنی زندگی ، اپنے لیے فائدے مند، اور اپنے وجود کو ،خود کے لیے لئے، قابل قدر بنانا چاہتے ہیں۔
اسی لئے آپ چاہتے ہیں ،کہ آپ جب، کسی سے رابطہ کریں، یا کوئی آپ سے رابطہ کرے، تو فریقین ،کسی نہ کسی طور فائدے میں رہیں۔nnاور اس عمل/سوچ میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں nخواہ آپ پر متعفن معاشرتی اخلاقیات
یعنیn/مروت/ دل رکھ لو / اتنی سی تو بات ہے/ انسان کو نرم ہونا چاہئے/ایک کال ہی تو تھی/ایک بار ملنے میں حرج ہی کیا تھا
وغیرہ وغیرہ،n نافذ کرنے کی کتنی ہی کوشش کی جاتی رہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.