#22nnمیٹنگز/ملاقات/کال کانفرسز وغیرہ کے لیے ڈیفالٹ اور خود کار رویہnnآپ کو اور آپ کے تمام ملنے والوں کو پروفیشنلی، یہ معلوم ہونا چاہیے کہ، میٹنگ کا ٹائم اب، ایک گھنٹے کے بجائے، تیس منٹ ہو کر رہ گیا ہےnnجدید پروفیشنل/پیشہ ورانہ تقاضوں/ پیمانوں اور معیارات کے مطابق،n یہ کہا جاتا ہے کہ،nn اگر ایک گھنٹے کی میٹنگ میں، بیک وقت ، دس لوگ موجود ہیں، تو وہ میٹنگ ، ایک نہیں دس گھنٹے کی تصور کی جائے۔n(یہ موضوع بذات خود ایک تفصیلی تحریر کا متقاضی ہے)nاور اس طرح ایک گھنٹے کی میٹنگ کو، تیس منٹ کا بنانے سے، بڑی کمپنیاں ،سالانہ، ہزاروں گھنٹے بچاسکتی ہیں یعنی ، اگر ایسی میٹنگز/کانفرسز ، ایک کے بجائے، آدھے گھنٹے کی کرلی جائیں.nnاپنی میٹنگ/کال کانفرنس کا دورانیہ، آغاز میں ہی، واضح کردیں،n دیں اور جس طرح بھی ممکن ہو ،یہ بات ، پہنچا دیں کہ، آپ مخصوص مدت تک ہی، میٹنگ یا کال کانفرسزکا،حصہ رہ سکتے ہیں۔nnپھر بھی، ضرورت ہو، تو دوسری ملاقات / دوسرے ایجنڈے ، اگلی بار کے لیے، طے کرلیں ۔nnہفتے میں ایک دن، ‘ نو میٹنگ ڈے’ کے طور پر منائیں، اور اس دن ، کسی قسم کی کال ، میٹنگ، ملاقات ، کانفرس کال سے گریز کریں .nnفی زمانہ
بہت سی اچھی کمپنیوں نے یہ رویہ اختیار کرکے اپنی، مجموعی پیداواری صلاحیت میں کافی اضافہ کیا ہے۔nn پیشہ ورانہ، افادیت، پیداواری صلاحیتوں سے متعلق ، ڈیفالٹ/خودکار رویوں کا باب ،یہاں ختم ہواnnاگلی چند تحاریر/اختتامی پوسٹس میں۔
ذاتی زندگی/رہن سہن سے متعلق، شخصی بہتری کی طرف مائل بہ پرواز، ڈیفالٹ رویوں/خودکار فیصلوں پہ بات کی جائے گی۔
پوسٹ – 2020-01-25
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد