سوز سے ہی ساز نکلتا ہے nnدل دکھے تو تخلیق پنپتی ہے nnافسانہ ، المیے کی کوکھ سے پیدا ہوتا ہےnnتحاریر ، آگہی کے دکھ سے بنی جاتی ہےnnتم کیا جانو دو چٹکی تحریر کی قیمت مشینی بابوnnایک لکھاری کا مان ہوتی ہے ، نشہ نہ ملنے کی اذیتnnایسی باتیں بہت سنی ہوں گی آپ نے nnاو بھئی ایسا کچھ نہیں ہوتاnnسادہ سا اصول ہےnnکہانی میں ٹوئسٹ نہ ہو تو وہ کہانی نہیں رہتی ، صرف خبرنامہ بن جاتی ہے nnاور ٹوئسٹ کے لیے ضرورینہیں ، اپنی نسیں کاٹ لوnnبس ایک ولن چاہئے nnعاشقی کے لیے nnولن لکھا ہے nnالن فقیر نہ پڑھ لیناnnایک سے ایک ، لن ترانی کرنے والے چڑھابیٹھا ہے ، فیس بک پرnnہونہہ

اترك رد