پوسٹ – 2020-02-05

اپنے مرد(تعلق/رشتہ کوئی بھی ہو) کی طرف سے مطمئن عورت، کبھی بھی، مرد کے خلاف بات نہیں کرتی، نہ ہی کبھی بھی ، مردوں کے آگے سر جھاڑ منہ پھاڑ، بحث برائے بحث کرتی ہے۔nnتکنیکی طور پر، یہ بھی مرد کی ہی غلطی ہے، کہ اس کی عورت، اب وہ محبوبہ ہو یا بیوی، کسی دوسرے مرد کے سامنے، غیر ضروری طور پر ، بے فائدہ، چوں چراں کرتی پھرے، خواہ، وہ کسی آفس میں ہو، یا پھر، سوشل میڈیا پر
ایسا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے، کہ اس کا شوہر/محبوب، صرف چند اضافی ،جسمانی اعضا رکھنے والی مخلوق ہے، بس۔nnاور اس نے، عورت کو، سمجھا نہیں، یا سمجھا تو بس تیل پانی(خرچہ ) دے کر سٹارٹ ہوجانے والی موٹر ، بس۔
یاد رکھیں
عورت کو جنس / پیسہ کسی سے بھی مل سکتا ہے
اور آج کل تو شدید آسان ہے۔nnپھر آپ کے پاس، سپیشل کیا ہے جو دوسروں کے پاس نہیں، ؟
وہ شاہکار ہے، قدرت کا، اسے ہلکی پھلکی کشش (شخصی ناٹ ظاہری)یا بنیادی یعنی محض مادی یا جنسی ضرورت پوری کرنے شوہر سے کیا ملے جو وہ اس سے خود کو دور نہ کرسکے۔
شاہکار ہے نا۔
شاہکار کو، سنبھال رکھنے کے لیے ، آپ کو معمار ہونا پڑے گا
ورنہ، ذمےداری تو اگلی نے آپ پہ ویسے بھی ڈال ہی دینی یے۔
تو بہتر نہیں کہ، خود پہ محنت کریں، بجائے، جعلی حاکمیت جتانے کے۔nnبالکل اسی طرح، جس طرح، اگر عورت کو اپنے خالص حسن کا ادراک ہو، تو وہ سوتی جاتی ، رنگ بدلتی حسین ہوتی ہے۔
اسے میک اپ میں غسل کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے، عمر کچھ بھی ہوجایے۔۔nnکیوں ؟
اگلی کی سیلف ورتھ کا ہالہ ہی کافی ہوتا ہےاس ہے لیے۔
اسی طرح مرد کو حاکمیت باور کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.