پوسٹ – 2020-02-06

مفروضہ/گمان/ مجھے لگا/میں سمجھا nاس بیماری سے بچنے کا ایک سادہ سا حلnnکبھی بھی گمان/مفروضے کو، خودکار انداز میں ذہن پہ سواری مت کرنے دیں۔nnآٹومیٹک تھنکنگ / خودکار انداز میں سوچتے چلے جانے کا سب سے بڑا نقصان ہی ہے یہ کہ ، آپ پر طاری ہو جاتے ہیں، اور آپ ، انہیں فار گرانٹڈ لے کر، غلط چوائسز/فیصلے کی طرف جا سکتے ہیں۔nnایسا ہونے لگے تو، خود سے ایک سادہ سا سوال پوچھئےnn’فلاں گمان/مفروضہ/مجھے جو لگ رہا ہے، آخر کیسے پتا چلے گا کہ یہ گمان/مفروضہ، اچھا اور ٹھوس منطقی پس منظر رکھتا ہے’ ،nnاس کے علاوہ ایک اصول طے کرلیںnnمیں یہاں تک کیسے پہنچا
میرے پاس مفروضے کومستند قرار دینے کا کیا راستہ ہے، nnجب تک یہ دو باتیں کلئیر نہ ہوجائیں، مفروضے نہ بنائیں۔nnاس عادت کو اپنانے سے آپ، nمجھے لگا
شاید ایسا ہو
میں سمجھی
مجھے پتا نہیں تھا، اس لیے میں نے ایسا سوچا
میرا گمان ہے
میرا خیال ہےnnجیسے مرض سے نجات پا لیں۔ یا کم از کم، اسے منطقی کرنے کی ہی کوشش کرلیں گے۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.