پوسٹ – 2020-05-19

کہتے ہیں ، کہانی کے آغاز کے ایک دومنٹ ، بہت اہم ہوتے ہیں ، nnانہیں ایک دو منٹ میں ، کوئی ، شاکنگ کام کردیا جائے ، کسی کا مرڈرnnکوئی بلاسٹ ، کوئی ، حملہ ، کوئی ، تھرتھلی مچانے والی چیز nnتو ، ناظرین یا قارئین انگیج ہوجاتے ہیں ، nnورنہ پھر ، سکرول/چینل بدل جاتے ہیں nnپچیس گرام بانو قدسیہ ، تین چار چھٹانک احسان دانش ، تیس روپے کے ، ناصر کاظمی ٹائپ ، حسرتوں کے قاصد لکھتے وقت یہ سمجھ لیں ، تو ان کی کہانیاں میں ، کشش پیدا ہوجائے گی ، ان کی ، پوسٹ ، چرسیوں کا اڈا نہیں لگے گی ، جہاں سب ، غم کے مارے ، حق مولالائی خیر کے نعرے لگاتے خود کو ، باذوق سمجھ رہے ہوتے ہیں ، اور nnہائے میں لٹی گئی nnٹائپ شخص خود کو ادیبnn خدا را ، ادب گردی سے باز آئیں ، بانو قدسیہ ، جتنی کرگئیں کافی ہے ۔nnبانو قدسیہ کا اسلوب بہت پسند ہے ، رونا دھونا نہیں ، جتنا انہیں پڑھا ہے ، تھوڑا بہت ، مرد بریشم ، راجہ گدھ ، اور متفق مضامین ، زیادہ نہیں ، پر جتنا بھی پڑھا، ان کے اسلوب کا ڈائی ہارڈ فین ہوں ، پر، وہی بات ، پجاری نہیں جو ، ڈپریشن ، بانو آپا نے ، المیہ اور حقیقت نگاری کے نام پر ، لکھ دیا ہے ، اسے شاید اس دور کے لوگ تو سمجھ لیتے ، جب لکھا گیا ، لیکن ، آج کل ، تو سستے افیونچی ہی بن جاتے ہیں ، پڑھ کر ، nnہائے میری سیماnnہائے میرا آفتاب nnہائے مقبول ، تیری ایسی کی تیسی، یہی چل رہا ہوتا ہے ، nnباقی ، مرد برشیم میں ، کمال کردیا کہ ، شاید وہ حقیقی زندگی سے متعلق ، خاکہ ہے ، nnنوٹ: بانوقدسیہ کے نام پر ، دانت کچکچانے اور خوخیانے والوں کو ، ایک بار پھر ، سے ، گڈمارننگ

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.