پوسٹ – 2020-06-05

آفاقی کشش ایک قانون ہے ۔nnبولے تو ، لا آف یونی ورسل اٹریکشنnnجس کا سادہ سا مطلب یہ ہےکہ ، ہم اٹامک لیول پر ، ہر ، چیز کے ساتھ ، رابطے میں ہیں ، رابطے کا ذریعہ ، ویوز ہیں ، یعنی لہریں ،وغیرہ وغیرہ ذریعے بہت سے ہوسکتے ہیںnnاور ، ہم اپنے ایٹم/وجود سے ، جو لہریں خارج کریں گے ، وہی ، لہریں ، پوری کائنات میں ، اپنا ہم جولی تلاش کریں گی ، یعنی اسی طرح کی فریکوئنسی ، اور اسی طرح کی لہروں کو کھینچ کر ، ہم تک لائیں گی ، ظاہر ہے ، سیم ویوز فریکوئنسی ، ایک ہی جیسی لہروں کی ہوگی ۔nnتو اگر ہم ، اپنے وجود سے ہمہ وقت ، تنقید / تلخی کا اخراج کرتے ہیں ، تو کائنات کے کونے کھدرے تک ، وہ ارتعاش برہا ہو گا ، اور وہ ارتعاش ویسی ہی لہروں کو ، اٹریکٹ کرے گا ، جو ، دوسرے “تلخ” افراد نے بھیجی ہوئی ہوں گی ، اس لیے ، ہم ، لامحالہ ، تلخی ، کو ہی اپنی طرف اٹریکٹ کریں گے ،nnپھر آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں ، آپ کو آپ جیسے ہی ملیں گےnnاور آپ کو مزا بھی انہی کے ساتھ آئے گا ،nnلیکن ،وجود ، ایسی لہروں کی آماجگاہ بن کر ، مثبت لہروں کو بھسم کر کے رکھ دے گا ، حتی کے مثبت لہریں پھینکنے والا ، ٹرانسمیٹر اور انہیں ریسیو کرنے والا ریسیور ، تک برباد ہوجائے گاnnآسان زبان میں ، ہمارے پاس جس نیٹ ورک کی سم اور فری کوئنسی سٹرانگ ہوگی ، ہمیں ، فرینڈ ایز فیملی والے پیکج بھی اسی طرح کے ملیں گے ، nnدوسرے بھی مل سکتے ہیں ، لیکن ، زیادہ تر ، سیم نیٹورک ہی ملے گاnnیو فون کی فری سم لگا کر ، جاز کے ٹاور والے مزے نہیں لیے آئ مین جاز کے پیکجز کے مزے نہیں لیے جا سکتے nn(اگر محض اس مثال کو پکڑ ،کر ، اختلاف کرنے کو دل ہمکے تو، یہ مثال نظر انداز کرکے ، اوپر ، نیچے کے پیراگرافس پر فوکس کرین , کیوں کہ اگر یہاں تک آتے آتے ، بات سمجھ آرہی تھی ، اور اس مثال کر پکڑ ، انفرادی اور اختلافی جرایثیم کلبلایا ہے تو اس مطلب ہے ، تحریر سے نہیں تنقید سے مطلب ہے، اور اپنے پاس ، بڑا سٹرانگ فلٹر لگا ہوا ہے غیر ضروری نقادوں کو ، چھلنی میں چھان کر ، سائڈ کرنے کا) nnبہرحال nnکبھی نوٹ کیجئے گا ، آپ کی پوری شخصیت ، مجموعی طور پر جیسی ہوتی ہے ، آپ کے پجاری اور پرستار بھی موسٹلی ویسے ہی ہوتے ہیں ،nnآپ ایک ثقیل سے شاعر ہیں ، تو آپ اور آپ کی زندگی مکمل کنفیوزڈ ہوگی ( یہ ہر شاعر پر نہیں ہے )nnاور آپ کے پجاری سوری قاری ، انے وا، کفنیوزڈnnآپ کے دوست ، آپ سے زیادہ بڑھ چڑھ کر کنفیوزڈnnآپ المیہ زدہ ہیںnnتو آپ کو پسند کرنے والے اتنے ہی بھکاری ٹائپ ہوں گے ، اندر سے (بھلے سے بن رہے ہوں مظلوم) لیکن اندر سے پرنسٹلی اوور آل ویس ہی ہوگی ، بھلے سے مظلومیت کی وجہ خود ہی ہوںnnآپ ، ٹھرکی ہیں شدید تو آپ کو ٹھرکی ہی میسر آئیں گےnn( شکر ہے میں نیک افراد میں اٹھتا ہوں ، بیٹھتا کہاں ہوں یہ نہں معلوم)nnآپ ، شدید نقاد ہیں ، حرام ہے آپ کی زندگی میں ، تنقید زدوں کے علاوہ کوئی میسر آئےnnآپ ، مکروہ قسم کے مینی پولیٹر یعنی مفاد پرست ہیں ، ہیں ، تو آپ کو ساتھ بھی ایسے ہی لوگوں کا ملے گاnnآپ ، جیے ہیں آپ کو ویسا ہی ملتا رہے گا ( آئی مین اکثریت میں )nnیہ قسمت تو ہوتی ہی ہے ، پر ، یہ لہروں والا کام ہوتا ہے ۔nnدور دراز بکھری لہریں ، ایسے ہی کنیکٹ ہوتی ہیں ۔پھر دماغ جڑ جاتے ہیں ایسے لوگوں سےnnخیر ،nnاب یہ ایک تھیوری ہے ، میں تو بس اتنا جانتا ہوںnnمیں تو اکیلا ہوں ، نو باڈی لووز میnnمجھ بس ویسی ہی ، تین چار لہریں چاہیں ۔۔میں قناعت پسند ہوں ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.