صرف دوسروں کو خوش رکھنے کے فوائد۔nnموضوعات کی فہرست nمطیع ، فرماں بردار ، سب کو خوش رکھنے والا رویہ ، دلفریب کیوں ہے ؟
اس سوچ ، اور رویے کی ، ممکنہ وجوہات۔
مثالیں-nاپنی ذات کو مستند قرار دلوانا۔
فیصلے /ذمے داری کے بوجھ سے آزادی ۔n”لوگ کیا کہیں گے “والی سوچ کا ، ایک بہت بڑا فائدہ۔
ایسے لوگ ، فائدے میں کیوں رہتے ہیں ۔nnمطیع ، فرماں بردار ، سب کو خوش رکھنے والا رویہ ، دلفریب کیوں ہے ؟
یہ رویہ، بہت سے افراد کے ، پرکشش اور دلفریب ہے ، کیوں کہ اس رویے کو مستقلا اپنا کر ، “تنازعے” سے بچا جا سکتا ہے ، یہ بظاہر ہی ایسا لگتاہے ، کیوں کہ ، در حقیقت ہے ، یہ تنازعے /منفیت سے بچنا نہیں ، اس سے صرف نظر کرنا ہے ، اس کو ٹالنا ہے ، ختم کرنا نہیں ۔۔ چھپانا ہے ، کیوں کہ ، کچھ افراد کے لیے ، تنازعہ ، شدید ، خوف کا سبب ہوتاہے ، مفعول ، ٹائپ کے ، افراد جنہیں n”لوگ کیا کہیں گے ” کی بہت پروا ہوتی ہے ، ان کے ہاں ، تنازعہ بہت خوفناک اور ہولنا ک چیز ہوتی ہے،
ایسے افراد ، جو ، مطیع کے درجے سے نیچے گر کر ، مفعول ہوجاتے ہیں ، جنہیں سانس بھی یہ سوچ کر لینی پڑتی ہے کہ ، آواز سن کر لوگ کیا کہیں گے ، وہ بڑے ہی آرام دہ اور محفوظ حالت میں رہتے ہوئے ، اپنے اس رویے اور تھاٹ پیٹرن ، کو ، قائم رکھ سکتے ہیں ۔nnاس سوچ ، اور رویے کی ، ممکنہ وجوہات۔
اکثر اوقات ، یہ والے تھاٹ پیٹرنز ، گھر بار ، رشتے تعلقات، سوسائٹی ، رسم و رواج کی وجہ سے بھی وجود میں آتے ہیں nگھر میں والدین ، کی بے جا سختی
واضح رہے ،والدین کی سختی (خصوصا ، جائزسختی ، لڑکوں کے لیے ) ضروری ہے ، پر بے جا ، ہربات پر ، تنقید ، اور اخلاقیات/مذہب کے حوالے سے ، صرف اپنی منوانا، کہ لوگ کیا کہیں گے ، ناک کٹوادی وغیرہ وغیرہ ، اس رویے کو بے جا لکھا ہے ۔n تعلیمی نظام ، اسکول کالج ، میں ڈسپلن کے نام پر غلامی سکھانا ،
یا پھر سوسائٹی کے دوسرے ، مراکز ، جہاں سے انسان ، محض دبنا ہی سیکھتا ہے ، خواہ ، کارپوریٹ کلچر ہی کیوں نہ ہو
مثالیں-nاس کی ایک چھوٹی سی مثا ل ، nسامنے والے شخص کو ، رزیل کرنے کا من ہوتا ہے ، لیکن ، آفس ای میل میں ، اسے کائنڈ ریگارڈز ، لکھنا پڑتا ہے ، کہ ، کارپوریٹ نارمز ہیں ۔
کسی کا نام لیے بغیر ، اس کی غلط ، بات آشکار کرنے کی پرمیشن نہیں ہوتی ۔
اکثر اوقات”میں نام نہیں لینا چاہتا” کے پرد ے میں ، عمومی بات کر کے ، کسی خاص شخص یا کلچر کو ٹارگٹ کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے کہ ، سوچ بہت دب چکی ہے،ہاں یہ ہر جگہ ضروری بھی نہیں ، اور یہی ججمنٹ کہ کہاں ضروری ہے کہاں نہیں، اور ، کتنا آشکار کرنا ضروری ہے ، یہ حکمت کہلاتی ہے۔اور جب بچپن سے ایسے ماحول میں جی رہے ہوں ، تو ، ایسی ذہنی رکاوٹوں کو توڑنا ، شدید ذہنی دباو کا باعث بنتا ہے nایک اور مثال ، nکوئی عورت ، اپنے شوہر کو ، دوسری شادی کی اجازت دے کر دیکھے ، اس عورت اور شوہر کا معاملہ اپنی جگہ ، سب سے پہلے اس پر سوسائٹی چڑھے گی ، مرد کا تو چھوڑ ہی دیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے ، یعنی جب وہ دوسری شادی کی بات کرے ۔
دوسری شادی کے موضوع کو بھی چھوڑیں ،
پہلی شادی ، کی بات کرنے والا” بہت جوانی چڑھ گئی ہے “، بہت گرمی چڑھ رہی ہے ، جیسے جملے سنتا ہے ، کماتے کماتے تیس پینتیس کا ہوجاتا ہے ، پر
بینک اکاونٹ گیلا کرتے کرتے ، جذبات کے سوتے، “مجھے شرم آتی ہے ” ایسی باتیں کرتے ہو ئے ، کے چکر میں ، خشک ہوجاتے ہیں
ا ب ،خیر دور بدل رہا ہے ، پر ، کچھ معاشروں میں ، اب بھی ، یہی سوچ ، موجود ہے ، زنگ آہستہ آہستہ ہی اترے گا ۔
ہاں پیٹ کی بھوک کے لیے ، تین بار ، کھانا ، مانگو ، تو یہ نہیں کہا جاتا، بہت بھوک چڑھی گئی ہے ؟ زیادہ فاقہ ہورہا ہے کیا ؟
معاشرے ، لگتاہے کہ ، فطرت نے ہمیں ، صرف، معدے کی بھوک دے کر ہی ، دنیا میں بھیجا ہے ، باقی ، ضروریات، شرم اور ، رواجوں کی نذر ہوجائیں تو بھی خیر ہے ۔لیکن سب کے سامنے اچھا ضرور بننا ہے ۔ لوگ باگ ، برادری کیا کہے گی ، وغیرہ وغیرہ ۔
مصلحت او راخلاقیات کے نام پر ، دبنا سکھایا جاتا ہے ۔
زیادہ بولنے کو ، برا کہا جاتا ہے ، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ، کہ اپنے مدعے کے لیے بولنا ، زیادہ بولنانہیں ، حتی کے ، زیادہ ، بے ربط ، بے موضوع بولنا برا ہے ۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ ، ہمیں “خاموشی” اور ایک چپ سو سکھ ، کا لیکچر دینے والے مبلغین ، یہی تبلیغیں ، گھنٹوں ، تقاریر کر کے ، کرتے ہیں nبندہ ان سے پوچھے ، کم بولنے کی ترغیب ، اتنا زیادہ بول کر کیوں دے رہے ہو ۔ nبہرحال ، nیہ چیزیں جب جم کر جوان ہوجاتی ہیں ، تو ، پھر ، ان کو توڑنا شدید مشکل ہوجاتا ہے ۔
اکثر افراد، کی ذہنی رو، انہیں چیزوں میں بھٹک کر “مفعول و مطیع” کے طور پر ، ٹرین ہو چکی ہوتی ہے ۔
اور پھر شروع ہوتا ہے n”دوسروں کے سامنے اپنی ذات کی سند لینے کا” اندوہناک راستہ ۔
اپنی ذات کو مستند قرار دلوانا۔
بس مجھے لوگ کچھ نہ کہیں ، میری تعریف کریں ، انہیں خوش رکھوں ، سب مجھے اچھا سمجھیں ، میرے ہر کام کا مقصد، اپنی ذات کی nاپروو ل ، اور تصدیق / ویلی ڈیشن ، وہ بھی دوسروں سے ، لینا ہو ،
ایسے افراد کو ، “بے غرض” ایثار پسند ، با مروت ، اور اعلی ظرف کے کھوکھلے ٹائٹلز ، دے د ے کر ، اور پکا سیمنٹ ، کردیا جاتا ہے ۔nnفیصلے /ذمے داری کے بوجھ سے آزادی ۔
تعاون کرنے والا ، سب کے کام آنے والا ، بقول شخصے ، خدمت خلق کا مارا ہوا۔اس لیے ، اپنی شخصیت میں جھانکیں تو ، ان میں ، کوئی قوت فیصلہ یا ، کسی کے مخالف جانے کی سکت نہیں بچتی ، کیوں کہ ، تنازعے سے بچناہے تو ، پھر ، ایسا آدمی ، اپنے کاندھوں پر ، بہت ہی کم بہت ہی کم ، فیصلوں کے بوجھ ، طاری کرتا ہے ۔
کم از کم ، ان افراد سے بہت کم ،جنہیں ہم nاگریسو ، مشتعل مزاج ، یا پھر ، اپنی بات کو جماکر ، تمیز سے منوانے والایا انگلش میں nAssertive nکہتےہیں ، ان کے کاندھوں پر ، شدید بوجھ ہوتا ہے، فیصلوں کا ، سب کو لے کر چلنے کا ، سخت چوائسز کا ، توازن رکھنے کا ، ، اور nمفعول ،یعنی nSubmissive nکے کاندھے ، فیصلوں کے بوجھ سے عاری ہوتے ہیں ، کیوں کہ اس کی زندگی کی راہیں دوسرے بنا رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ اچھا بننے کے چکر میں ، اسی پر چلا جا رہا ہوتا ہے ۔ظاہر ہے جب ، فیصلہ ساز نہیں ، تو لیڈر بھی نہیں ، اور جب لیڈ ر بھی نہیں ، تو اگر کچھ ، غلط ہوجائے تو ، الزام بھی اس کے سر نہیں آتا ، nپیروکار، ٹائپ افراد پر کوئی الزام نہیں رکھتا، الزام ، جنرل پر آتا ہے ، سپاہیوں پر نہیں ، ٹیم کے بجائے ، گرفت ، ٹیم لیڈر پر ہی ہوا کرتی ہے ۔
اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ، nاگر ، چند افراد نے ، طے کیا کہ ہم فلم دیکھیں گے ، اور وہ فلم ، بہت بے کار تھی ، تو پیروکار ٹائپ شخص ، جو سب کی خوشی میں خوش ہے ، اس پر کوئی الزام نہیں ڈال سکتا کہ ، تمھاری چوائس بے کار ہے ، کیوں کہ ، اس نے ، فیصلے کے وقت ، بجائے کلئیر بات کرنے کے ، یہ کہا تھاn”آپ لو گ ، کچھ بھی دیکھو ، چلے گا ، میں آپ کے ساتھ ہوں “nاور یہ بھی کہ ، ان میں سے کچھ ، مفعول قسم کے افراد، (سب نہیں ) کچھ ، افرا د، ، اتنے بے یار و مددگار ٹائپ ہوتے ہیں کہ ، دوسرے افراد ان کی ، حفاظت اور کئیر کے لیے آن موجود ہوتے ہیں ۔n”لوگ کیا کہیں گے “والی سوچ کا ، ایک بہت بڑا فائدہ۔
ضروری نہیں ہر جگہ ایسا ہو ، پر ، اکثر، آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ، nاور ایک بہت بڑا فائدہ ، ایسے مفعول افراد کو یہ ہوتا ہےکہ ، انہیں ، اپنے دو پیروں پر ، زور لگا کر ، جم کر کھڑا ہونے کے بجائے ، دوسرے کی ذات ، بصورت بیساکھی نصیب ہوجاتی ہے ۔، پھر یہ ، چسکا بن جاتا ہے ،وہ ، ہر اس معاملے میں ، جو ان کو اپنے ہاتھ سے نکلتا محسوس ہو ، دوسرے کی مدد کے طالب ہوتے ہیں ۔ہمہ وقت سہارا چاہنے والے ، معذور ہوجایا کرتےہیں ،۔
اور سب سے بہترین فائدہ ، ایسے اشخاص کو یہ ہوتا ہے ،
کنٹرول ، اکثر انہی کے ہاتھ میں رہتا ہے ، خصوصا، فریجائل (نرم و نازک ) سے کلچرز میں ، nجب ، مشتعل( aggressive) nفیصلہ کن قوت کے مالک ، اور ایسے ، پیروکار، مفعول/مطیع/ سب کے سامنے اچھا بن کر رہنے والے ، یعنی nSubmissive , n، افراد صورتحا ل / افراد/تعلقات کو ، کنٹرول کے لیے ٹاکرے پر اتر آتے ہیں تو، فریجائل معاشرے (مٹھاس سے بھرپور ، نرم و نازک مجمع) ان کے nجیت ، nSubmissive nیعنی انے وا پیرو کار ، ٹائپ کی ہی ہوتی ہے nجانتے ہیں کیوں ؟
جذباتی ، بلیک میلنگ کی وجہ سے –nچکنی چپڑی باتوں ، چاپلوسی ، اطاعت گزاری (ظاہری ہی سہی ) nزود رنجی، یعنی روتے رہنا اور دھوتے رہنا۔
اذیت بھرے تجربات کی وجہ سے طاری ہوجانے والی مظلومیت، nآپ نے اکثر سنا ہوگاn”میں سب کچھ ، برداشت کرسکتا ہوں ، لیکن ، عورت کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔
صنفی تفریق سے قطع نظر ، یہ ایک فطری انتہا ہے ، جذبات میں لا کر ، کام نکلوانے کی ( اور کافی حد تک ٹھیک بھی ہے کہ ، اگر کوئی واقعی ظالم ہو نہ مان رہا ہوتو اس کو نرم اور کیسے کیا جائے)nایسے لوگ ، فائدے میں کیسے رہتے ہیں ؟
اچھا، اس سب میں ، ایسے فرد کا کیا اور کیسے فائدہ ہے ، جو یہ سب کرتا ہے nبہت فائدہ ہے nوہ ، ذمے داری اٹھانے ، اور تنازعے میں الجھنے سے بچا رہتا ہے ، اور پھر بھی کنٹرول اس کے ہاتھ میں رہتا ہے ۔
اور چونکہ کہ “مظلومیت” سوا ہوتی ہے ، اس کی ، دوسرے کی نظروں میں ، تو اسے ، پھر حفاظت بھی خوب ملتی ہے، اور مزے کی بات ، انہی سے ملتی ہے ، جنہیں وہ کنٹرول کر رہا /رہی ہوتی ہے ، اپنے آنسووں ، یا جذباتیت سے ۔
اور پھر وہ ، انہیں ، رویوں کو ، زندگی کا طریقہ بنا لیتے ہیں ، حتی کہ ، یہ سب انجوائے کرتے ہوئے n”بے غرضی” ، ایثار پسندی کا لقب بھی حاصل کرلیتے ہیں ۔
، اس لیے ، اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ، اگر ، لوگ ، زود رنجی ، nSubmissivenessnروتے دھوتے رہنا ، الم کی تصویر بنے رہنا
گوارا کیے رکھتے ہیں ، اور یہی سارے گر آزماتے رہتے ہیں ، ظاہر ہے ، اس کے فائدے اتنے ہیں کہ ، اس کو ہاتھ سے کون جانے دے
پوسٹ – 2020-06-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد