حقیقی گفتگو سے اخذشدہ۔۔nnآئی ٹی سروسز / پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کی دنیا میں، بیس nبائیس سالہ تجربہ رکھنے والے ، ایک کولیگ کا ، نئے آنے والوں کو مشورہ۔۔
انہی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔۔nnاگر آپ فری لانسر ہیں، تو کوششکریں،ہر اس شخص سے، بچ کرکامکریں جس میں درج ذیلخصائلہوںnnپاکستانی
مسلمان
ہمہوقت قال اللہ قال الرسول کرنے والا
کسی مذہبیسی تنظیم /کاز/مشن سےمنسلک nوجہ ؟
پاکستانی مذہبی (سب نہیں) پر اکثر سے کہیں زیادہ، nپیسوں / کامکے معاملے میں ،اور کاروبار کے معاملے میں،انتہائی، خصیص،گھٹیا پن کی حد تک شکی، اور پیسوں کو لے کر، چور / کرپٹ واقع ہوئے ہیں۔
خصوصیت کے ساتھ مذہبی طبقہ ( سب نہیں اکثر)nاس میں قصور مذہب کا نہیں،ان کی اپنی اسفل، فطرت کا ہےجسکی وجہ سے، یہ لوگ سمجھتے ہیں، کہ دو بالشت کی ڈاڑھی، اور ناف پہ ناڑا باندھ کر یہ لوگ، صاف اور باقی سب فری لانسر چور۔
مجبورا کامکرنا nپڑجایے پھر، یہکروکہ، ،اگر آپ لوگ اپنیمحنت کا معاوضیہ، عام افراد سے، ایڈوانس چالیس پچاسفیصد لیتے ہو، nتو ، اس قماش کے افراد/کمپنی/تنظیموں سے،
ستر یااسی فیصد لو۔۔۔
ورنہانکاکام لوہی مت۔۔
پوسٹ – 2020-07-02
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد