پوسٹ – 2020-07-03

سود‌‌، سور، ا ور مری بیوریجز کے مشروبات پر پلے بڑھے، خود کو‌،پاکستان کا مامے خان سمجھنے، والےn(انہیں یا باور کروانے میں، پاکستانیوں کی فاسد حب الوطنی کا بھی ہاتھ ہے) nشاید یہ‌سمجھ رہے ہیں، کہ‌،کئی دہائیوں سے پاکستان کو nجہنم‌بنا‌کر بھڑکانے کے بعد، اب اسے ٹھنڈا کرنا ضروری ہے۔
اس لیے، ایسے اقدامات کرو کہ‌دنیا، ان کی حماقتوں کی وجہ‌سے، آتش فشان ہوجانے والے اس معاشرے کو، گولا‌گنڈا سمجھنے لگے۔
شاید اسی وجہ سے اس بار، حمقا، جگت باز، زانیوں ، شرابیوں، بھانڈوں، میراثیوں، کی‌فوج ظفر موج کو‌، بطور ریاست پیش کیا‌گیا nnیہ‌تھیوری، بظاہر‌غلط بھی نہیں لگتی کہ، nپہلے دنیا کے سامنے الاو بھڑکائے رکھو
اب پانی ڈالتے ڈالتے، سر منہ‌سب سیاہ‌کر بیٹھے ہیں۔nnلیکن ،جب یس سر، نو‌سر والے دماغ میں
وسیع تر مفاد
تزویراتی گہرائی
کا‌خناس ناچنے لگے تو ، یہ‌سمجھ‌نہں آتا‌کہ، nپہلے، اجتماعی، حماقتوں کا‌حساب، شرمندگی، اور پبلک اپولوجی کے ساتھ دینا پڑتا ہے nنہ‌کہ‌بئیر کی‌چسکیاں لگا کر،‌پرانی‌روش پر‌چل‌کر، خود کو ان‌ٹچ‌ایبل‌کرکے، سب کو‌درست کرنے کا‌ٹھیکا‌اٹھا‌لینا۔
ایسا کرنے سے ،جہنم سرد نہیں ہوتا،
جہنم‌میں، زمہریر اگ آتا ہے۔nnاور زمہریر‌، جہنم کی ،وہ‌وادی ہے، جہاں کی تباہ کن سردی کی وجہ‌سے خود، جہنم اس سے دن میں سینکڑوں بار پناہ مانگتا ہے۔۔
یاد رکھیے،‌یہ‌بئیر‌زادے، اب بھی‌‌تجربوں سے باز نہیں آئے، تو اس بار، شدت پسندی، دماغ کھولا دینے والی گرم‌نہیں، بلکہ ہڈیوں میں، گھس جانے والی سرد ہوگی۔۔۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.