پوسٹ – 2020-07-18

اگر کسی ماہر نفسیات سے پالا پڑ جائے ،اور وہ خوام خواہ آپ کا والد صاحب / تفتیش کار بن کر آپ کی شخصیت ادھیڑنے کے موڈ میں ہو ، تو اس سے صرف ایک سوال کریں –nکیا آپ ، میرے مسئلے کی جڑ جانچنا چاہتے ہیں یا ، شاخیں کاٹ کر ، جڑ قائم رکھ کر ، مجھے مستقل کلائینٹ بنائے رکھنا چاہتے ہیں بھئی ظاہر ہے ، لوگ مرنا چھوڑ دیں تو گورکن کہاں سے کھائے گا
اکثر ( سب نہں ،پر بہت سے ) پاکستانی ماہرین نفسیات کا بھی یہی معاملہ ہے ،
یہ لوگ کیوں چاہیں گے ، کہ ذہنی امراض ٹھیک ہوں ، ان کی تو روزی روٹی اور چولہا ، آپ کے فوبیا کی مرہون منت ہے ۔
وسیے یہ خود بے چارے اندر سے جتنےn”رل تے گئے ہاں چس بڑی آئی آ “nکا نمونہ ہوتے ہیں ۔
شاید عام ذہنی مریض نہیں ہوتا
وجہ ؟
ابے ہر کتے بلے کو بیٹھ کر سننا ، آپ کو کیسے نارمل رہنے دے سکتا ہے ؟
پھر ، آپ کی اپنی زندگی ، آپ کے گھر کے مسائل ، آئرین مین ہو کیا ؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.